خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 772 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 772

خطبات طاہر جلدم 772 خطبه جمعه ۳ ار ستمبر ۱۹۸۵ء اللہ کی زمین میں آگئے ہو اور اللہ کی زمین کو کون تنگ کر سکتا ہے۔وَاَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً يقيناً اللہ کی زمین بہت وسیع ہے اور یقینا اللہ کی زمین وسعت پذیر ہے وہ بڑھتی ہی چلی جائے گی اور ناممکن ہے کہ تم اس کی وسعتوں کو روک سکو۔اس وعدہ کو بھی ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے بار ہا پورا ہوتے دیکھا۔ساری جماعت احمدیہ کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب لوگ یعنی دشمن جماعت احمدیہ کے گھر چھین رہے تھے یا جلا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے یہ ہدایت دے رہا تھا کہ وسعُ مَكَانَك ( تذكره صفحه (۴۱) اپنے مکانوں کو وسیع کرنے کی تیاری کرو اور ہر دفعہ جماعت احمدیت کے مکانات ہر ابتلاء کے بعد وسیع تر ہوتے چلے گئے۔اس کی بارہا میں نے مثالیں دی ہیں۔اتنی کثرت کے ساتھ اس کی مثالیں ہر ابتلاء کے دور میں ملتی ہیں کہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں تک ہیں کہ جن احمدی گھروں کو جلایا گیا یا لوٹا گیا ، جن کو کھنڈروں میں تبدیل کیا گیا ان گھروں کے مکینوں کو خدا تعالیٰ نے اتنے وسیع مکان عطا فرمائے ، اتنے خوبصورت ، اتنے عظیم الشان کہ ان کے مقابل پر وہ پہلے گھر محض جھونپڑے دکھائی دیتے تھے۔تو یہ تو ایک انفرادی سلوک تھا خدا تعالیٰ کا جماعت کے ساتھ۔اسی قسم کا سلوک بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جماعت کے ساتھ بھی ہوتا چلا آیا ہے۔ایک ملک میں زمین تنگ کرنے کی کوشش کی گئی تو نئے ملک عطا کر دیئے گئے نئی تبلیغ میں وسعتیں پیدا کر دی گئیں اور نئی سرزمین خدا کی طرف سے عطا ہونے لگی۔اس دور ابتلاء میں بھی انگلستان میں اسلام آباد کی وسیع سرزمین عطا فرمائی گئی جس میں بہت سی ایسی سہولتیں موجود تھیں اور اتنے بڑے وسیع کو ارٹرز موجود تھے جن کو مکان تو نہیں کہنا درست، مگر وہ بیر کس قسم کی جس طرح کی فوجی بیر کس ہوتی ہیں اس شکل کی اس میں عمارتیں موجود تھیں کہ وہاں خدا کے فضل سے جلسہ سالانہ انگلستان منعقد کرنے کی توفیق عطا ہوئی اور تقریباً 800 مہمان ان بلڈنگز میں وہاں ٹھہر سکے اور انگلستان کے معیار سے ایک بہت ہی بڑی چیز ہے کہ کسی عمارت میں 800 مہمان ٹھہر سکیں اور اس کے علاوہ جلسہ کے لئے وسیع میدان بہت ہی کھلا خدا کے فضل سے انتظام ہوسکتا ہے اور جتنے دوست آئے وہ تو خیر چھ سات ہزار تھے، اگر ربوہ کے مقابل کا جلسہ ڈیڑھ دولاکھ افراد کا جلسہ وہاں منعقد کرنا چاہیں تو اس کی بھی خدا کے فضل سے گنجائش موجود ہے اور با آسانی عورتوں اور مردوں کو ملا کر ایک جیسا جلسہ منعقد ہو سکتا ہے۔