خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 771 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 771

خطبات طاہر جلدم 771 خطبه جمعه ۳ ار ستمبر ۱۹۸۵ء ہالینڈ میں ایک نئے اور وسیع جماعتی مرکز کا افتتاح ( خطبه جمعه فرموده ۱۳ ستمبر ۱۹۸۵ء بمقام من سپیٹ ہالینڈ ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: " گزشتہ خطبہ میں میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا قطعی اور واضح وعدہ ہے کہ وہ لوگ جو میری خاطر دیکھ دیئے جاتے ہیں جو صبر اور حوصلہ کے ساتھ محض میرے نام کی خاطر اور میری عزت کی خاطر تکلیفیں برداشت کرتے ہیں میں ان کو انعام پر انعام دیتا ہوں ، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور خصوصیت کے ساتھ اس دنیا میں انعام کا ذکر اس لئے فرمایا گیا کہ لوگ کہیں اس خیال سے مایوس نہ ہو جائیں یا کمزور ایمان رکھنے والے ٹھوکر نہ کھا جائیں کہ آخرت کے وعدے ہیں اور آخرت کس نے دیکھی ہے۔اس لئے اس موقع پر جہاں دکھوں کا ذکر ہے وہاں في هذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ (الزمر:۱۱) پر زور دیا گیا یہ بتانے کے لئے کہ تم اس دنیا میں ہی اپنے نیک اعمال کا اجر پا جاؤ گے تاکہ تمہیں یقین ہو اور تمہارے ایمان میں اضافہ ہو کہ آخرت میں یہی خدا ہے جو انعام واکرام دینے کا وعدہ کر رہا ہے اس سے بہت بڑھ کر وہ ہم سے اپنے وعدے پورے فرمائے گا۔اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَاَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً (الزمر (11) یقیناً خدا کی زمین بہت بڑھنے والی ہے۔وسیع ہے بھی اس کے معنی ہیں اور وسعت پذیر ہے بھی اس کا ترجمہ کیا جاسکتا ہے اور اس موقع پر خصوصیت کے ساتھ زیادہ موزوں معنی وسعت پذیر کے ہوں گے کہ لوگ تو تمہیں تنگ کرنے کی کوشش کریں گے، تمہارے حلقے تم پر تنگ کرتے چلے جائیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ تمہاری زمینیں چھوٹی ہو گئیں لیکن تم جب خدا کی خاطر یہ تکلیفیں برداشت کر رہے ہو تو تم