خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 767 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 767

خطبات طاہر جلدم 767 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء یہ خیال آیا کہ چوہدری صاحب کو ایک فکر دامن گیر ہے خدا تعالیٰ نے ساتھ اس کی بھی خوشخبری دے دی ہے اور یہ فکر تھی کہ انہوں نے جو صد سالہ جو بلی کے لئے چندہ لکھوایا تھا اس میں سے دولاکھ پاؤنڈ بھی ان پر قرض تھا، واجب الا دا تھا۔ان کا جو سر مایہ تھا وہ ایک ظالم نے قبضہ میں لے لیا اور بظاہر یہ نظر آتا تھا کہ اب اس سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔اس کا یہ کہنا تھا کہ نقصان ہو چکا ہے میں ادا نہیں کر سکتا۔بعض لوگوں کو بدظنی تھی کہ بہانہ بنایا گیا ہے چوہدری صاحب کی سادگی سے فائدہ اٹھایا گیا ہے اور کافی بڑی رقم اس کے پاس ضائع ہونے کا خطرہ تھا اور چوہدری صاحب توقع رکھ رہے تھے کہ وہاں سے پیسہ ملے تو میں یہ چندہ ادا کروں۔چنانچہ جب میری آخری ملاقات ہوئی ہے اس وقت بھی اس کا طبیعت پر بہت بوجھ تھا۔جب میں کراچی جانے لگا ہوں اس وقت بھی مجھ سے ذکر کیا علیحدگی میں کہ اس کے لئے دعا کریں کہ میری طبیعت پہ بہت ہی بڑا بوجھ ہے۔تو اس رویا میں اللہ تعالیٰ نے جو مضمون بتایا اس سے مجھے یہ بھی یقین ہو گیا کہ انشاء اللہ تعالیٰ ایک تو یہ کہ اس صورت میں تو اللہ تعالیٰ ان کو نہیں مارے گا اور جب تک وہ بوجھ نہیں اتر تا اس وقت تک خدا تعالیٰ ضرور زندہ رکھے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے غیر معمولی زندگی عطا فرمائی۔پھر کئی خطرات پیدا ہوئے۔کئی بحران آئے اور ڈاکٹروں کی نظر میں تو وہ ہر دفعہ یہی کہہ دیتے رہے کہ بس اب بچنے کی امید نہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بچاتا رہا۔پھر میرا یہاں آنا ہوا اور یہاں اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی کہ وہ پھنسی ہوئی رقم جس کے متعلق سب اس کو Right off کر چکے تھے کہتے تھے اس کے نکلنے کی کوئی امید نہیں اس سلسلے میں کچھ کوشش کی توفیق عطا ہوئی اور ہمارے ماموں زاد بھائی ہیں رفیع الدین ایڈووکیٹ ان کو بھی خدا تعالیٰ نے کراچی سے یہاں بھجوادیا اور بڑے قابل وکیل ہیں اور ان باتوں میں بڑے ماہر گفت وشنید کا فن بھی جانتے ہیں۔چنانچہ ان کی کمپنی کے ذریعے جب وہ گفت و شنید ہوئی تو قانونی طور انہوں نے اس طرح ان کو قابو کر لیا کہ دولاکھ سے کچھ زائد رقم ان سے مل گئی اور یہی وہ دولاکھ تھا جو ان کو پریشان کئے ہوئے تھا۔چنانچہ چند مہینے پہلے کی بات ہے کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ الحمد للہ نہ صرف یہ کہ رقم ہمیں مل جائے گی کی بات نہیں وہ عمارت جو دولاکھ سے زائد کی ہے وہ اب خدا کے فضل سے ہمارے