خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 70

خطبات طاہر جلدم 70 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء بانی جماعت احمدیہ نے خود تسلیم بھی کر لیا ہے جو کہ چھپی ہوئی تحریر موجود ہے کہ میں (یعنی جماعت احمدیہ کا بانی) اور جماعت احمد یہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہیں چنانچہ ان دونوں امور سے متعلق میں چند حقائق جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے واقعی انگریز کی تعریف فرمائی اور متعدد بار فرمائی ہے لیکن ہر جگہ یہ ذکر کیا گیا ہے کہ میں اس لئے تعریف کرتا ہوں کہ ہندوستان کے مسلمانوں خصوصاً پنجاب کے مسلمانوں کی حالت زار اس درجہ تک خراب ہو چکی تھی کہ ان کا کوئی بھی حق باقی نہیں رہا تھا اور سکھوں کی حکومت نے ایسے ایسے مظالم توڑے تھے کہ اس کی کوئی نظیر دوسری جگہ نظر نہیں آتی ، اس جلتے اور دہکتے ہوئے تنور سے انگریزی حکومت نے آکر ہمیں نکالا اور ہمارے جملہ حقوق بحال کئے، یہ وجہ ہے کہ میں اس حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور ہوں کیونکہ نہ صرف یہ سنت انبیاء ہے بلکہ عام انسانی شرافت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ احسان کو احسان کے ساتھ یاد کیا جائے۔سکھوں کے دور میں مسلمان بہت ہی خطرناک حالت میں تھے یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیان ہے لیکن ہندو جو مسلمانوں کے مقابل پرسکھوں کے ساتھ بہت زیادہ گہرے مراسم رکھتے ہیں ان کے محققین نے بھی بعینہ اس بات کو تسلیم کیا ہے۔چنا نچہ آج کے اس خطبہ میں میں نے دو حوالے چنے ہیں جن میں سے ایک حوالہ غیر مسلم کا اور ایک غیر احمدی مسلمان کا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ جس زمانہ میں انگریزوں نے آکر مسلمانوں کو اس مصیبت سے نجات دی اس وقت مسلمانوں کی کیا حالت تھی۔تلسی رام صاحب اپنی کتاب ”شیر پنجاب مطبوعہ ۱۸۷۲ء میں لکھتے ہیں۔ابتدا میں سکھوں کا طریق غارت گری اور لوٹ مار کا تھا جو ہاتھ آتا تھا لوٹ کر اپنی اپنی جماعت میں تقسیم کر لیا کرتے تھے مسلمانوں سے سکھوں کو بڑی دشمنی تھی۔اذان یعنی بانگ بآواز بلند نہیں ہونے دیتے تھے۔مسجدوں کو اپنے تحت میں لے کر ان میں گرنتھ پڑھنا شروع کرتے اور اس کا نام موت کڑا رکھتے تھے۔اور شراب خور ہوتے۔دیکھنے والے کہتے ہیں کہ جہاں وہ پہنچتے تھے جو کوئی برتن مٹی استعمالی کسی مذہب والے کا پڑا ہوا ان کو ہاتھ آجا تا پانچ چھتر مار کر