خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 758
خطبات طاہر جلدم 758 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء اور دنیا کے دھندوں میں پھنسا ہوا انسان طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا ر ہے آج یہ ایک خوش قسمت کہ محبوب حقیقی کے ساتھ وصال کی خبر آئی تو جہاں دل میں ایک شدید درد پیدا ہوا وہاں یہ بھی تحریک ہوئی کہ تمہارے لئے یہ موقع ہے کہ اپنی ناکارہ زندگی کوکسی کام میں لاؤ اور اپنے تئیں افغانستان کی سرزمین میں حق کی خدمت کے لئے پیش کرو۔پھر میں اچانک رکا کہ کیا یہ محض میرے نفس کی خواہش، خواہش نمائش تو نہیں کہ اس یقین پر کہ مجھے نہیں بھیجا جائے گا اپنے تئیں پیش کرتا ہوں اور میں نے اپنے ذہن میں ان مصائب اور مشکلات کا اندازہ کیا جو اس رستے میں پیش آئیں گی اور اپنے تئیں سمجھایا کہ فوری شہادت ایک ایسی سعادت ہے جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی اور کیا تم محض اس لئے اپنے تئیں پیش کرتے ہو کہ جاتے ہی شہادت کا درجہ حاصل کرو اور دنیا کے افکار سے نجات حاصل کر لو۔یا تمہارے اندر یہ ہمت ہے کہ ایک لمبا عرصہ زندہ رہ کر ہر روز اللہ تعالیٰ کے رستے میں جان دو اور متواتر شہادت سے منہ نہ موڑو۔حضور انور میں کمزور ہوں ،ہست ہوں ، آرام طلب ہوں لیکن غور کے بعد میرے نفس نے یہی جواب دیا ہے کہ میں نمائش کے لئے نہیں، فوری شہادت کے لئے نہیں، دنیا کے افکار سے نجات کے لئے نہیں بلکہ گناہوں کے لئے تو بہ کا موقع میسر کرنے کے لئے ، اپنی عاقبت کے لئے ذخیرہ جمع کرنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنے تئیں اس خدمت میں پیش کرتا ہوں۔اگر مجھ جیسے نا بکار گنہ گار سے اللہ تعالیٰ یہ خدمت لے اور مجھے یہ تو فیق عطا فرمائے کہ میں اپنی زندگی کے بقیہ ایام اس کی رضا کے حصول میں صرف کر دوں تو اس سے بڑھ کر میں کسی نعمت اور کسی خوشی کا طلب گار نہیں۔حضور میں مضمون نویس نہیں اور حضور کی بارگاہ میں تو نہ زبان یا را دیتی ہے نہ قلم جیسے کسی نے کہا ہے بے زبانی ترجمان شوق بے حد ہو تو ہو ور نہ پیش یار کام آتی ہیں تقریریں کہیں یہ حسرت موہانی کا شعر ہے جو آپ نے quote کیا )