خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 69
خطبات طاہر جلدم وہ جدید 69 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء حققین کون سے ہیں ان کا کوئی ذکر نہیں ، ان کی تحقیق کیا بتاتی ہے اس کا بھی کوئی ذکر نہیں بلکہ محض ایک فرضی الزام گھڑ کر پیش کر دیا گیا ہے لیکن طرز زبان ایسی اختیار کی گئی ہے جسے مغربی دنیا یا آج کل کے تعلیم یافتہ دوسرے لوگ عموماً قبول کر لیں کہ واقعی یہ ایک بڑی محققانہ زبان ہے کہ آج کے جدید تحقین نے ثابت کر دیا ہے“۔ایک تحقیق جو اس ضمن میں ان کی طرف سے شائع کی گئی تھی اس میں ایک ایسی کتاب کا نام لیا گیا جو ان کے بیان کے مطابق انگلستان کے کسی پریس سے شائع ہوئی: The Arrival of) British Empire In India:Cited by Ajami Israil,p۔19) اس میں یہ اقرار کیا گیا تھا کہ انگریزوں نے اپنی پارلیمنٹ میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہندوستان کو قابو کرنے کے لئے وہاں ایک جھوٹا نبی کھڑا کیا جائے اور اس کا نام ظلمی نبی رکھا جائے۔گویا مظلمی نبی انگریزی محاورہ ہے اور انہوں نے کہا کہ اصل علاج تو یہ ہے کہ ہندوستان میں ایک ظلی نبی پیدا کر دیا جائے اور پھر اس کے ذریعہ سارے مسلمانوں کو قابو کر لیا جائے چنانچہ جب میں نے ( یہ بہت پرانی بات ہے میں اس زمانہ میں وقف جدید میں تھا ) یہاں لنڈن کے امام صاحب کو لکھا کہ اگر چہ یہ واضح جھوٹی بات ہے لیکن پھر بھی آپ وہ کتاب دیکھیں کہ اس میں کوئی ایسی بات ہے بھی کہ نہیں یا ممکن ہے کہ کسی اور قسم کا ذکر ہوا ہو جسے تو ڑمروڑ لیا گیا ہو تو امام صاحب نے جواب دیا کہ اس نام کی تو کوئی کتاب ہی نہیں ہے۔میں نے کہا پھر تحقیق کریں اور پریس والوں سے پوچھیں تو جواب یہ ملا کہ ہم نے بہت تحقیق کی ہے کتاب تو در کنار اس نام کا پریس ہی کوئی نہیں۔پھر اس ضمن میں برٹش میوزیم اور بعض دوسرے اہم اداروں سے پتہ کیا گیا تو سب نے کورا جواب دیا کہ ایسی کوئی کتاب ہی نہیں ہے نہ اس نام کا کوئی پر لیں ، نہ اس نام کی کوئی کتاب ، نہ یہ ذکر کہیں، ہم آپ کو کیا حوالہ دیں۔تو یہ ہیں حکومت پاکستان کے وہ ” جدید محققین جن کی یہ تحقیق ہے۔اس کے لئے تو تحقیق“ کا لفظ استعمال ید یہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔بہر حال حکومت پاکستان کی طرف سے اس کو جدید تحقیق کا نام دے کر بڑے فخر سے دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور اس میں متفرق جگہ جو طعن و تشنیع سے کام لیا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انگریز کی حد سے زیادہ تعریف اور چاپلوسی کی ہے پس ایک تو یہ دلیل ہوئی انگریز کا خود کاشتہ پودا ہونے کی اور ایک دلیل یہ کہ ایک موقع پر