خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 740
خطبات طاہر جلد۴ 740 خطبه جمعه ۳۰ را گست ۱۹۸۵ء میں تو بیٹھا ہوا منتظر تھا کہ خدا کوئی رستہ دے تو ہم وہاں پہنچیں ۔ تو جاؤ اور مبلغ بنو وہاں جا کر خدا کے فضل سے۔ چنانچہ ان کو جاتے ہیں خدا تعالیٰ نے کیتھولک عیسائیوں میں سے ایک بڑا اچھا پھل عطا کیا اور ان کے بیوی بچے پیچھے گئے تو انہوں نے ان کی بیوی بچوں میں تبلیغ کی اب وہ پورا خاندان خدا کے فضل سے احمدی ہو گیا ہے۔ ماریشس کے قریب ایک جزیرہ ہے ۔ وہاں بھی خدا تعالیٰ نے عیسائیوں میں سے اور کیتھولک عیسائیوں میں سے جو اپنے مذہب میں بڑے شدید ہیں ان میں سے ایک نوجوان عطا کیا پھر اس کے ساتھ اور بیعتیں شروع ہو گئیں اور اب انہوں نے اصرار کیا ہے کہ ہمیں فوراً مشن قائم کر کے دیا جائے۔ چنانچہ مرکزی نمائندہ اب جا کر وہاں دورہ کرے گا اور ان کو مشن انشاء اللہ تعالیٰ لے کر دے گا۔ برازیل میں ہم بڑی دیر سے منتظر تھے کہ وہاں مشن قائم کیا جائے۔ جنوبی امریکہ میں جماعت احمدیہ کا ایک بھی مشن نہیں تھا اگر چہ احمدی کچھ وہاں پہنچے ہوئے تھے لیکن مشن کہیں قائم نہیں تھا۔ چنانچہ خدا کے فضل سے برازیل میں پہلا مشن قائم ہو گیا ہے اور اب ہم وہاں وسیع زمین کی تلاش کر رہے ہیں جہاں انشاء اللہ نہایت ہی شاندار مسجد اور مشن ہاؤس قائم ہوگا بلکہ اللہ تعالی توفیق عطا فرمائے تو ارادہ یہ ہے کہ اتنی وسیع زمین ہو کہ بہت سے احمدی خاندانوں کو بھی وہاں آباد کیا جا سکے، ایک احمدی گاؤں بن جائے اور وہاں اس کے امکانات ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی فضلوں کی بارش ہو رہی ہے خدا ہم پر ایسے احسانات نازل فرما رہا ہے ہم پر کہ ہر روز ہم خدا کے اس وعدے کو پورا ہوتے دیکھتے ہیں کہ وَاَرْضُ اللهِ وَاسِعَةٌ عام زمینیں دنیا کی تو دو طرفوں میں پھیلتی ہیں لیکن خدا کی زمین تو شش جہات میں پھیل رہی ہے ہر لحاظ سے ہر پہلو سے خدا کی زمین کو ہم وسعت پذیر ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ اسلامی ممالک سے نئے رابطے پیدا ہوئے جہاں سب سے زیادہ کوشش کی گئی کہ اسلامی ممالک ہم سے بدظن ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں آج یہ آپ کو عظیم خوشخبری سناتا ہوں کہ جنیوا میں جو Human Rights Sub-Commision اس مسئلہ پر غور کر رہا تھا کہ مذہبی طور پر جماعت احمد یہ کو مسلمان کہلانے کے حق سے محروم کر کے ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اسی طرح دیگر