خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 65
خطبات طاہر جلدم 65 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء گے کہ لمبا معاملہ ہے کوئی فرق نہیں پڑتا ، اسی طرح ہوتا آیا ہے۔ایسی صورت میں پھر جو بے تابی اور بے قراری کی دعائیں ہوتی ہیں اُن میں وہ شدت نہیں رہتی۔یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے جس سے الہی جماعت کے لئے بچنا ضروری ہے۔اس لئے تقدیر تو وہی چلے گی جو خدا کی تقدیر ہے، اس کو تو کوئی بدل نہیں سکتا۔لیکن اپنی دعاؤں اور التجاؤں کا حوصلہ کیوں نیچا کرتے ہیں۔سپاہی تو وہ ہوتا ہے جو میدان میں لڑتا رہتا ہے، سینے پر گولی کھاتا ہے اور پیچھے نہیں ہٹتا۔الله پس خدا کی تقدیر سے کوئی لڑ نہیں سکتا۔خدا کی تقدیر نے خود ہی اپنی تقدیر کے مقابلہ کا ہمیں ایک گر بھی سکھایا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم عاجزانہ رنگ میں دعائیں کرتے رہیں کیونکہ عاجزانہ دعاؤں کی تقدیر بھی ایک الگ تقدیر ہے جو اپنا کام کر رہی ہوتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تقدیر بعض دفعہ ایسی قوی ہو جاتی ہے کہ اس کے لئے میں اپنی دوسری تقدیر بدل لیا کرتا ہوں اور دعاؤں کی تقدیر کو غالب کر دیا کرتا ہوں۔وہ عظیم الشان معجزہ جو عرب میں رونما ہوا اس کا تجزیہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا قوم نے آنحضرت ﷺ سے جو سلوک کیا اُس کا نتیجہ تو صرف یہ نکلنا چاہئے تھا کہ ساری قوم ہلاک ہو جاتی اور تہ و بالا کر دی جاتی۔نوح کی قوم سے زیادہ وہ اس بات کی سزا وار تھی کہ اُن مخالفین میں سے ایک فرد بشر باقی نہ چھوڑا جاتا۔وہ جو طائف کے سفر میں انتہائی دکھ دہ واقعہ گذرا تھا اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کو پیغام بھیجا تھا اس میں یہی تو حکمت ہے جو ظاہر کی گئی ہے کہ ہر گندے سلوک پر خدا کی تقدیر یہ چاہتی ہے کہ معاندین کو ہلاک کر دے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد اع یہ تیرے دل کی آرزو بھی ایک تقدیر بنارہی ہے۔خدا کے نزدیک تیری عاجزانہ دعائیں اور پر زور التجا ئیں بھی ایک تقدیر بنارہی ہیں اور وہ بھی خدا ہی کی تقدیر کا حصہ ہیں۔پس اے رسول اے تیرے جذبات، تیری دعائیں ہر دوسری تقدیر سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں اس لئے تیرے منشاء کے بغیر ، تجھ سے پوچھے بغیر کہ اس قوم کے ساتھ میں کیا سلوک کروں، میں اپنی دوسری تقدیر ظاہر نہیں کروں گا۔لیکن دوسری تقدیر کیا تھی؟ وہ یہی تو تھی کہ اگر تیرا دل چاہتا ہے۔اگر تو اتنا بے قرار اور دکھی ہو چکا ہے کہ ان کو مٹانے پر آمادہ ہو گیا ہے تو میں اپنے فرشتوں کو حکم دوں گا کہ وہ دو پہاڑوں کو اس طرح اکٹھا کر دیں کہ طائف کی بستی کا نشان ہمیشہ کے لئے دنیا سے