خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 709 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 709

خطبات طاہر جلد۴ 709 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۸۵ء احمدیوں کا تھا جو غلط فہمی سے آنے والوں کو بتانے کی غرض سے جلسہ کے مقررہ ہال کی طرف جا رہا تھا۔ اس کے مقابل پر ایک جتھا تھا جو بسوں میں بھر کر علاقہ سے اکٹھا کر کے لایا گیا اور سینکڑوں لاعلم لوگ بیچارے جن کو کچھ علم نہیں تھا کہ خدمت اسلام کیا ہوتی ہے خدمت دین کس کو کہتے ہیں ؟ اکثر ان میں ایسے ہیں جو یہاں کے معاشرہ سے متاثر نہ ہو ہو کر کر بد بد قسمتی سے سے ہر ہر اس اس گا گندگی میں مبتلا ہو ہو چکے ہیں جو مغربی تہذیب پیش کرتی ہے۔ ان کا رہن سہن ، ان کا اٹھنا بیٹھنا ، ان کا مشرب ، ان کے ہم مشرب وہ جگہیں جہاں جا کر ناچ گانے ہوتے ہیں، یہ ساری اس باتیں مغربی تہذیب کی ایسی ہیں جو انہوں نے اپنا رکھی ہیں ۔ سب نے نہیں لیکن ان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس نے اپنے آپ کو کلیہ کھلی چھٹی دے دی ہے لیکن ان میں بھی خدمت اسلام کا ایسا جوش تھا کہ ان سب باتوں کے باوجود انہوں نے اس خیال سے کہ اگر کوئی احمدی ہمارے ہاتھ سے قتل ہو گیا تو دنیا میں انعام اور آخرت میں ثواب اور سارے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی ، ان بیچاروں نے بھی شمولیت اختیار کر لی۔ چنانچہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے دو احمدی ڈاکٹرز ، ایک استاد جو نو مسلم ہیں، ایک احمدی خاتون جو نو مسلم ہیں جنہوں نے عیسائیوں میں سے اسلام قبول کیا ہوا ہے اور دو بچے وہ جب اس غرض سے جا رہے تھے تو جلوس نے ان کو گھیر لیا اور ہمارے ایک ڈاکٹر کو پہلے کھڑے ہوئے مارا پھر زمین پر گرایا ٹھڈوں سے مارا اور اس شدت کے ساتھ ان پر ٹھڈے برس رہے تھے کہ اگر کچھ دیر اور یہ حالت رہتی تو جان کا بچنا محال تھا۔ اس پر جو باقی ساتھی تھے وہ بھی بیچ میں داخل ہو گئے اور پھر Free For All کہتے ہیں جس کا جو بس چلا وہ اس سے ہوئی۔ لیکن وہ چونکہ بہت زیادہ تھے، چار یا پانچ آدمیوں کے مقابل پر جن میں دو بچے اور ایک عورت بھی شامل تھی وہ مجاہدین تبلیغ کرنے والے سینکڑوں کی تعداد میں تھے۔ اس کے نتیجہ میں ہمارے ان احمدیوں کو زخم بھی پہنچے، تکلیفیں اٹھائیں۔ وہاں احمدیوں کا خون بھی بہا اور بچوں کے سر پر بھی ایک چھوٹا بچہ جس کا قد اتنا ہے کہ جب ایک مولوی نے اس کے سر پر لاٹھی ماری تو اس کا ہاتھ بمشکل اس کی داڑھی تک پہنچ سکا ایسے بچے کو بھی انہوں نے خدمت اسلام میں شامل کر لیا۔ یہ بھی خیال نہیں آیا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ہم یہ تبلیغ اسلام کر رہے ہیں جو غزوات میں جہاد پر جانے سے پہلے ان دشمنوں کے مقابل پر جانے والے مسلمانوں کو یہ ہدایت دیا کرتے تھے جو ان کی قتل و غارت کی نیت سے نکلتے تھے کہ خبردار ! کسی بچے اور