خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 698 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 698

خطبات طاہر جلد۴ 698 خطبه جمعه ۶ اسراگست ۱۹۸۵ء نہیں کرنی چاہئیں۔اگر چہ پس منظر وہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے لیکن تقوی شعاری کا یہ تقاضا ہے کہ جب تک تحقیق نہ ہو دشمن پر بھی الزام نہ لگایا جائے۔وہ جو کھلم کھلا قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں جب تک کوئی ثبوت نہ ہو احمدی ان پر بھی الزام نہیں لگائے گا، نہ میں لگاتا ہوں کیونکہ میں نے آپ کو بتانا ہے کہ کیا کرنا چاہئے۔اس لئے اس پس منظر میں یہ جب میں نے بیان کیا ہے تو یہ ہرگز مقصد نہیں ہے کہ یہ کہوں کہ یہ علماء جنہوں نے آکر کھلم کھلا قتل کی تلقین کی ہے اور وہ حکومتیں جو ان کی پشت پناہی پر ہیں انہوں نے یہ قتل بھی پیسے دے کر کروایا ہے بلکہ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس پس منظر کے باوجود آپ بدظنیوں سے کام نہ لیں۔ایک آزاد حکومت تحقیق کروا رہی ہے اس کو تحقیق کرنے دیں۔ہوسکتا ہے کوئی اور عناصر اس کے ذمہ دار ہوں اس لئے قیاس آرائی کی خاطر میں آپ کو نہیں بتا رہا۔میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس شہید کو اور ان کے اہل وعیال کو اور پس ماندگان کو خاص طور پر اپنی دعاؤں میں یا درکھیں اور اپنے انتقام کو خدا پر چھوڑ دیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب ہم بغیر تحقیق کے الزام لگا دیں گے تو پھر معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے لیں گے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پھر پیچھے ہٹ جائے گی۔اگر اس معاملے کو خدا کے ہاتھ میں رہنے دیں گے تو اس سے بہتر انتقام لینے والا اور کوئی نہیں، وہ صاحب مقدرت ہے، وہ عالم الغیب والشھادۃ ہے، کوئی مخفی سازش اس کی نظر سے چھپتی نہیں۔جب رات کو چھپ کر لوگ مخفی سازشیں کرتے ہیں اس وقت بھی خدا ان کے اندر موجود ہوتا ہے اور ان سازشوں سے باخبر ہوتا ہے۔رات کو چھپ کر چلنے والا ، دن کو کھل کر چلنے والا ، اونچی بات کرنے والا ، نیچی بات کرنے والا ، سارے خدا تعالیٰ کی نظر میں رہتے ہیں۔اس لئے ایک تو دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ شریروں سے خود انتقام لے اور جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم نے وہی انتقام لینا ہے کہ بدی کا بدلہ حسن سے عطا کرنا ہے، اور یہی ہماری کوشش رہے گی۔علاوہ ازیں اپنے دیگر کارکنان سلسلہ کے لئے بھی دعائیں کریں اللہ تعالیٰ ہر شر سے ان کو محفوظ رکھے اور جہاں تک جماعت کا تعلق ہے حفاظت کی جو تدابیر اختیار کرسکتی ہے جماعت کو کرنی چاہئیں اور بیدار مغزی سے رہنا چاہئے ، آنکھیں کھول کر رہنا چاہئے۔اس سے بہتر کوئی حفاظت کا انتظام نہیں