خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 697
خطبات طاہر جلدم 697 خطبه جمعه ۶ ۱ را گست ۱۹۸۵ء سینکڑوں دشمنوں سے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ علیہ نے عفو کے ذریعہ انتقام لیا اور ان کی محمد مصطفی ﷺ کی طرف منسوب ہو گئیں اور آپ پر درود بھیجنے لگیں اور اپنے ماں باپ پر لعنتیں بھیجنے لگیں۔اس سے زیادہ عظیم الشان انتقام سوچا بھی نہیں جاسکتا۔انتقام بھی ہے اور بھلائی بھی ہے، انتقام بھی ہے اور احسان بھی ہے۔ایسا حسین امتزاج انتقام اور احسان کا، کوئی دنیا کی قوم مثال پیش تو کر کے دکھائے۔آنحضرت علی کو جب غلبہ نصیب ہوا تب بھی یہی احسان کا طریق جاری تھا۔محض یہ مجبوری کا احسان نہیں تھا۔تو آپ اس طرح انتقام لیں گے ان کے مظالم کا جو ہر سرزمین کی طرف منتقل کئے جارہے ہیں۔ہر سرزمین پر اس طرح انتقام لیں گے کہ اگر سال میں ایک احمدی ہوتا ہے وہاں تو اب سو ہونے لگیں، ہزار ہونے لگیں۔جتنا یہ دبانے کی کوشش کریں اتنا ہی زیادہ آپ کے ولولوں کے سر بلند ہونے شروع ہو جائیں۔اتنا ہی زیادہ آپ کے اندر جوش اور ولولہ پیدا ہونا شروع ہو جائے نئے عزم آپ کو عطا ہوں نئی عظمتیں نصیب ہوں آپ کے حوصلوں کو، یہ ہے آپ کا انتقام۔اب میں ایک دردناک خبر سے بھی آپ کو مطلع کرتا ہوں جو میرے لئے انتہائی درد کا موجب بنی مگر یہ ہے ایسی چیز جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اس درد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اعزاز بھی پایا جاتا ہے، احسان بھی پایا جاتا ہے۔یہ وہ درد ہے جو ہمیشہ اپنے پیاروں کو عطا کرتا ہے۔یہ وہ درد ہے جو اپنے دشمنوں کو عطا نہیں کیا کرتا یعنی شہادت کا درد۔ابھی چند دن پہلے ہمارے ایک بہت ہی مخلص اور فدائی مجاہد اسلام واقف زندگی قریشی محمد اسلم صاحب کو بڑے ظالمانہ طور پر بعض کرائے کے ٹوؤں سے قتل کروایا گیا ہے۔یہ ٹرینیڈاڈویسٹ انڈیز میں ہمارے مبلغ تھے اور وہاں کرائے کے قاتل لے کر ان کا پیچھا کر وایا گیا اور کسی تقریب پر گئے ہوئے تھے، جب واپس نکلے ہیں تو ان اوباشوں نے با قاعدہ گھیر کر موٹر سے کر نکالا اور پکڑ کر مضبوطی سے سر کے پاس سے 6 انچ کے پاس سے فائر کر کے ہلاک کیا اور پھر اس کے بعد پوری طرح تسلی کی کہ مرچکے وہ تب وہاں سے رخصت ہوئے اور وہاں ایسا ہوتا رہتا ہے۔جہاں تک جماعت کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس بارے میں قیاس آرائیاں