خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 691
خطبات طاہر جلدم 691 خطبه جمعه ۱۶ را گست ۱۹۸۵ء ہے اور اب کھل کر مجلس احرار کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ ہوا اور یہ جو نیا باب کھلا ہے،مجلس احرار کا سعودی عرب سے تعلق، اس کا سہرا یقینا صدر ضیاء صاحب کے سر پر ہے۔ورنہ پہلے احراریت سے کھلم کھلا گٹھ جوڑ سعودی عرب کا نہیں تھا۔چنانچہ یہ گٹھ جوڑ اب بہت کھل کر سامنے آ رہا ہے اور موجودہ فوجی حکومت کو اس کا یہ فائدہ حاصل ہو جاتا ہے کہ روپیل جاتا ہے ایک ملک سے اور اسے اپنے قیام کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں یعنی اسلام کی خدمت ہو رہی ہے اور فوج کا تو مقصد ہی اسلام کی سرحدوں کی حفاظت تھا۔اس لئے احمدیوں کی دشمنی کے ذریعہ گویا ہم اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں اور اس لئے ہمارا جواز ہے باقی رہنے کا۔تو اس سے دونوں حکومتوں کے مقاصد کو تقویت ملتی تھی۔جہاں تک صدر پاکستان کا تعلق ہے ان کا اس کا نفرنس میں پیغام بھیجنا اور سفیر کو مجبور کرنا کہ وہ خود جا کر وہاں پڑھیں اور شامل ہوں۔پڑھنے کا تو مجھے یقینی علم نہیں لیکن بہر حال شامل ہونے کا حکم نامہ مرکز سے پہنچا ہوا تھا۔بہر حال اس کو جو غیر معمولی اہمیت دی گئی اس کی کیا وجہ ہے؟ پہلے اس سے پاکستان میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ تو ہورہا تھا لیکن یہ ہمیں علم ہے کہ کچھ مہینوں سے خاموشی بھی تھی یعنی گزشتہ جو بھی اقدامات کئے گئے تھے ان کے نفاذ کے متعلق تو مخفی طور پر ہدایات با قاعدہ دی جاتی تھیں حکومت کے کارندوں کو یہ تو کا روائی کبھی بھی نہیں رکی لیکن صدر محترم خاموش تھے کچھ عرصے سے۔اس کا نفرنس کے موقع پر یہ غیر معمولی جوش کے ساتھ جو سکوت کو توڑا گیا ہے اور غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی مختلف وجوہات ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس عرصہ میں انتخابات ہو چکے ہیں اور ایک جمہوری حکومت کو بظاہر قائم ہو جانا چاہیے تھا اور ایک لمبے عرصے تک انتخاب کے بعد جمہوری حکومت کا قائم نہ کرنا ایک ایسی چیز ہے جو کسی معقول انسان کو خواہ اُس کی تعلیم ہو یا نہ ہو مجھ نہیں آسکتی۔معمولی سا سیاسی شعور بھی ہو تو یہ بات سمجھ نہیں سکتا کہ جمہوری انتخاب مارشل لاء کی گود میں کیسے پل سکتا ہے۔یہ تو بالکل ویسی ہی بات ہے جیسے بلی چوہیا کے بچے پال لے اور وہ اس کا دودھ پی کے پلنے لگیں۔ناممکن ہے، تضاد ہے ایک اندرونی۔مارشل لاء جب آتے ہیں تو جمہوریت کے خاتمہ کے لئے آتے ہیں، جمہوری اقدار کو مٹانے کے لئے آیا کرتے ہیں، جمہوری اقدار مارشل لاء کے نیچے پنپ سکتی ہی نہیں۔یہ تو ناممکن ہے اور جب جمہوریت سراٹھاتی ہے تو مارشل لاء کھسکنے لگتا ہے اور ایک طرف ہٹ جاتا ہے۔تو یہ ایک ایسا