خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 682 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 682

خطبات طاہر جلد۴ 682 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۸۵ء سے جو خدا کی طرف سے عطا ہوئی ہے تم خلافت احمدیہ کو بھی نہیں نکال سکتے۔کیا تمہارے منصوبے اور کیا تمہاری کا رروائیاں؟ حیرت ہے کہ سبق پہ سبق دیئے جاتے ہیں اور پھر تم آنکھیں بند کر لیتے ہو اور غافل ہو جاتے ہو۔کچھ حصے ایسے ہیں اس کے پس منظر کے، جن میں صرف جماعت احمدیہ ہی کو دلچسپی نہیں بلکہ سارے پاکستان کو دلچسپی ہونی چاہئے۔تمام پاکستان کو بھی دلچسپی ہونی چاہئے اور وہابی فرقہ کے علاوہ دیگر مسلمان فرقوں کو بھی دلچسپی ہونی چاہئے اور پس منظر اس کا کیا ہے، مقاصد کیا ہیں کس حد تک وہ اس میں کامیاب ہوئے یا ہو سکتے ہیں یہ ایک الگ داستان ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کو ان امور سے بھی آگاہ کرنا ضروری ہے تا کہ وہ خودان باتوں کو سمجھ کر دوسروں تک پہنچا ئیں یا پھر جس طرح کہ خطبات کثرت سے دنیا میں پھیلائے جارہے ہیں براہ راست جو دوست ان کو سننا چاہتے ہیں ان کو سنائیں اور ان کو بتائیں کہ اسلام کے خلاف اسلام کے نام پر کیا کیا سازشیں ہو رہی ہیں اور ذاتی اغراض کے لئے اسلام کے مقدس نام کو کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔اس کے نتیجے میں کیا کیا احتمالات ہیں۔پس ان کے متعلق انشاء اللہ جو چند باتیں رہ گئی ہیں وہ آئندہ بیان کروں گا۔احباب جماعت سے میں یہ کہتا ہوں کہ وہ مستعدر ہیں اور آنکھیں کھول کر زندگی گزاریں۔پہلے بھی خدا کے فضل سے مستعد ہیں لیکن دشمن جو یہاں پہنچا ہے یہ خاص منصوبوں کے تحت پہنچا ہے، جو گالیاں دی گئی ہیں یہ بھی خاص منصوبوں کے تحت گالیاں دی گئی ہیں۔مقصد یہ تھا ہی نہیں کہ دلائل کے ذریعے احمدیت کو شکست دی جائے کیونکہ دلائل ان کے پاس ہیں کوئی نہیں۔بار باران دلائل کی شکست یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔اس لئے اگر ان کے پاس دلائل ہوتے تو ہمیں وہاں کیوں نہ اجازت دیتے کہ ہم دلائل کے ساتھ ان کا مقابلہ کریں اور پھر ہمیں ہراتے ،شکست دیتے اور ذلیل کرتے اپنے ملک میں کہ دیکھو یہ ان کی دلیلیں تھیں، ہم نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔دلائل تو تھے ہی نہیں اس لئے یہاں آئے ہیں صرف گالیاں دینے کے لئے اور اشتعال انگیزی کے لئے اور اس کے پیچھے بھیانک سازشیں ہیں اس لئے باوجود اس کے کہ ہم خدا کی راہ میں مرنے کے لئے تیار ہیں مگر خدا کی رضا ہم سے یہ چاہتی ہے کہ اپنی قیمتی جانیں بے وجہ نہ دیں کیونکہ دنیا کو بھی ہماری ضرورت