خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 680
خطبات طاہر جلدم 680 خطبه جمعه ۹ راگست ۱۹۸۵ء اپنے دلوں کی امنگوں کو پورا کرنے کی توفیق نصیب ہو گئی، کچھ ایسے ہیں جو اس انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے انتظار اور اس تمنا کی کیفیت کو تم ہر گز تبدیل نہیں کر سکتے۔وہ اپنے بھائیوں کو قربان ہوتے دیکھ کر اور زیادہ تڑپتے ہیں کہ کاش ہم آگے بڑھیں اور ہم سے بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا۔بڑی قوت کے ساتھ خدا تعالیٰ نے ان کے حق میں گواہی دی ہے، بڑی شان کے ساتھ ان کے صدق کے حق میں گواہی دی ہے وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا ایک ذرہ برابر بھی ، ایک شعشہ بھر بھی تم ان کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس یہ رد عمل ہے جماعت احمدیہ کا اور یہ اثرات ہیں جو اس کا نفرنس نے یہاں بھی چھوڑے ہیں۔پہلے جب یہاں کی جماعت پاکستان کے احمدیوں پر مظالم کے قصے سنتی تھی تو بہت بے قرار ہوتی تھی کہ ہم اتنی دور بیٹھے ہوئے ہیں ہمارے بھائی ان مصیبتوں میں مبتلا ہیں۔جب یہاں آکر انہوں نے اشتعال انگیزی کی ہے تو کچھ دلوں میں حوصلے بڑھے ہیں، کچھ اطمینان پیدا ہوا ہے کہ بہت اچھا اب جو دور کی باتیں تھیں اب ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں گے خود وہ کیفیات اپنے دلوں سے گزرتی ہوئی دیکھیں گے ان قربانیوں میں ہم بھی شامل ہوں گے۔اس لئے ایک بھی احمدی نہیں ہے جس کو یہ ڈرا سکتے ہوں۔ہر قسم کے خطرات کے لئے جماعت ہر جگہ دنیا کے کونے کونے میں تیار بیٹھی ہوئی ہے۔جہاں جانا ہے تم قسمت آزما کر دیکھ لو۔تمہارے مقدر میں جو نا کا می لکھی ہوئی ہے وہ تو مقدر کبھی تبدیل نہیں ہوگا اور جماعت احمدیہ کے مقدر میں جو عزم اور تسلیم ورضا اور ایمان لکھے ہوئے ہیں یہ مقدر بھی کبھی تبدیل نہیں ہوسکتا۔تو کلیہ ناکام رہی ہے یہ کانفرنس اگر ڈرانے آئی تھی۔جہاں تک خلیفہ وقت کے قتل کا تعلق ہے خلیفہ وقت میں تو جماعت کی جان نہیں ہے، خلافت احمدیہ میں جان ہے۔ایک خلیفہ وقت کو قتل کرو گے تو دوسرا خلیفہ وقت وہی باتیں کہے گا۔اسی طرح کہے گا۔اس کو بھی اسی طرح خدا کی تائید حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے کو تھی۔تم نادان ہو جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایک خلیفہ وقت کے قتل کے ساتھ جماعت احمد یہ مرسکتی ہے۔جماعت احمدیہ کے خلفاء پر تو وہی بات صادق آتی ہے۔إِذَا سَيِّدٌ مِنَّا خَلَا قَامَ سَيِّدٌ قَسُولٌ لِمَا قَال الْكِرَامُ فَعُولُ،