خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 678
خطبات طاہر جلدم 678 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۸۵ء یہ مقاصد ہیں۔تمام اپنے حلقہ احباب میں یہ کہیں بولتے ہیں وہاں سچ بھی مارتے ہوں گے کچھ وہ ساری باتیں یہاں پہنچ جاتی ہیں۔تو منصوبہ ان کا ایک یہ تھا کہتے یہ ہیں اللہ بہتر جانتا ہے کس حد تک سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ بول رہے ہیں اس بارہ میں حکومت پاکستان کے ساتھ ان کا پورا اتفاق ہو چکا ہے اور مجھوتہ ہو گیا ہے، ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمت ہے کہ اگر اس دور میں یعنی صد رضیاء کے دور میں جماعت احمد یہ تباہ نہ ہوئی تو پھر کبھی تباہ نہیں ہوگی ، اگر اس دور میں ان کی خلافت تباہ نہ ہوئی تو پھر یہ کبھی تباہ نہیں ہوگی اس لئے مولویوں کی باتیں جو ہم تک پہنچی ہیں وہ یہ ہیں کہ مولوی تو وہاں جا کر یہ کہتے ہیں کہ حضور ! آپ کے سر سہرا ہے بس، آپ اب یہ کام کر جائیں تو ہمیشہ کی زندگی پا جائیں گے اور اتنا عظیم تاج آپ کے سر پر رکھا جائے گا جوکوئی پھر نہیں چھین سکے گا اور وہ ان کو یہ کہتے ہیں کہ ہاں پھر تم کام کرو، یہ تاج میرے لئے جیتو اور تمام حکومت کی مشینری تمہاری سر پرستی میں کھڑی ہے، تمہاری پشت پناہی کر رہی ہے۔جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے ان کا پیسہ ان کے کام آرہا ہے۔ان کے مقاصد کیا ہیں؟ یہ ایک الگ مضمون ہے بڑی تفصیل کے ساتھ ہم اس کا تجزیہ بھی کر چکے ہیں جانتے ہیں کہ کیوں ہے؟ کیونکہ جب تک ہم واقعات پر نظر نہ رکھیں دفاعی کا روائی نہیں کر سکتے۔بہر حال اس نیت کے ساتھ یہ علماء یہاں بھجوائے گئے کہ وہاں جا کر ایسی نفرتیں پیدا کر دو کہ ان نفرتوں کے سایہ میں جب ہم قتل و غارت کی کارروائی کریں تو احمدی خوف زدہ ہو جائیں، ان میں Panic پھیل جائے ، وہ اپنی خلافت سے متنفر یا خوف زدہ ہونے لگ جائیں کہ اس نے ہمیں مصیبت میں ڈالا ہوا ہے اور ایک عام بد دلی پھیل جائے اور پھر خلیفہ وقت کو اس طرح قتل کرواؤ کہ نیا انتخاب ربوہ میں ہونے نہ دیا جائے اور ساری مرکزیت جماعت کی منتشر ہو کر رہ جائے یہ منصوبہ ہے۔اس قدر بے وقوفوں والا منصوبہ ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔جماعت کی تاریخ پر نظر کر کے تو دیکھیں کہ یہ جماعت ہے کیا چیز ؟ جتنی مخالفت کرتے ہو تم اتنا ہی دن بدن جماعت قربانیوں کے معیار میں بڑھ رہی ہے۔کب احمدی کوئی پیچھے ہٹا ہے؟ جتنے حملے تم ان کی جانوں پر کرتے ہو سو ہزار جانیں تڑپنے لگتی ہیں کہ کاش ہم ہوتے جنہوں نے جان قربان کی ہوتی۔وہی نقشہ ہے جو قرآن کریم نے کھینچا ہے فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَ