خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 677 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 677

خطبات طاہر جلدم 677 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۸۵ء آئے تھے اور بدامنی اور فساد پھیلا کر آخر یہاں سے رخصت ہورہے ہیں۔کن دعاوی کے ساتھ یہ لوگ چلتے ہیں کیا کر دکھاتے ہیں جا کر۔پس ان کے ہاں تضاد ہے قول اور فعل کا لیکن ثمینی صاحب کے اندرختی ضرور ہے جو ایک ملائیت کی طبع پیداوار ہے مگر قول اور فعل کا تضاد کوئی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ قوم کے اندر ان کی بڑی عزت پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہم بھی ان کی اس نقطہ نگاہ سے عزت کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کا عجیب حال ہے لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف:۳) پر ان کی کوئی نظر نہیں ہے۔نہیں جانتے کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ أن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف:۴) بہت بڑا گناہ ہے کہ اگر تم کہو کچھ اور منہ سے اور کرو کچھ اور ، جو کہتے ہو وہ کر کے نہ دکھاؤ۔پس اگر یہ جنت اتنی آسان جنت ہے تو سب سے پہلے مولویوں کو آگے جانا چاہئے اور چھپ کر حملے نہیں کرنے چاہئیں احمد یوں پر ، دن دھاڑے پکڑ کر احمد یوں کو قتل کرنا چاہئے اور مولوی آگے آگے ہوں اور اس کے بعد اپنا نام پیش کریں اور کہیں ہمیں جنت سے محروم نہ کرو۔وہاں جا کر جھوٹی قسمیں کیوں کھاتے ہیں کہ ہم نہیں تھے۔قاتلوں کے حق میں جھوٹی گواہیاں کیوں دیتے ہیں، جنت سے پھر کیوں روکتے ہیں قسمیں کھا کھا کر۔عجیب ہے صلى الله تضادان کے کردار کا، اتنا جھوٹ بولتے ہیں اور پھر اسلام اور حضرت محمد مصطفی علیہ اور ناموس محمد مصطفی" کے نام پر۔بہر حال کلیۂ اس حیثیت سے یہ کانفرنس ناکام رہی ہے اور جہاں تک جماعت احمدیہ کو ڈرانے کا تعلق ہے ایک مقصد یہ اس کا نفرنس کا یہ بیان کیا جاتا ہے اور کچھ تو یہ بیان کرتے ہیں اور کچھ اطلاعیں ہمیں ملتی رہتی ہیں کیونکہ اس وقت پاکستان کا یہ حال ہے کہ وہاں جو سازشیں بن رہی ہوتی ہیں پنپ رہی ہوتی ہیں یا جو جماعت احمدیہ کے خلاف منصوبے بنائے جاتے ہیں ان سب کی اطلاعیں ہمیں مل جاتی ہیں۔وجہ یہ ہے کہ جب جماعت احمدیہ کی مخالفت ہو ، جب جماعت احمدیہ کے خلاف منصوبے بازی ہو تو اس میں مولوی ضرور شامل ہوتا ہے اور ایک لحاظ سے یہ پیٹ کے بھاری ہوں گے لیکن فی الحقیقت پیٹ کے ہلکے ہیں بات تو ہضم ہو ہی نہیں سکتی اس لئے ان کے حلقہ احباب سے ساری باتیں پہنچ جاتی ہیں، تمام کارروائیاں، ہم ملے تھے اور بڑے فخر سے پھر کہتے ہیں کہ صدر مملکت نے ہم سے یہ وعدے کئے ہیں خاموشی میں اندر بیٹھ کر ، انہوں نے ہم سے یہ یہ باتیں کی ہیں،