خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 663

خطبات طاہر جلدم 663 خطبه جمعه ۲ /اگست ۱۹۸۵ء ڈال کر دیکھیں ہمیشہ یہی ہوا ہے۔ہماری آج کی جو نسلیں ہیں ان میں سے بہت سے ہیں جن کو ۵۳ء کی تاریخ یاد ہے اور اکثریت ہے جن کو ہےء کی تاریخ یاد ہے۔اگر آپ غور کر کے ان باتوں کو مستحضر کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جب وہ زمانہ گزر رہا تھا تو اس وقت مومنوں پر یہ کیفیت تھی کہ ایک ایک دن کئی کئی برس کا لگتا تھا اور کئی برس تک کے پھیلے ہوئے دن بہت ہی کٹھن زمانہ تھا جو گزرا۔لیکن جب خدا تعالیٰ کی تائید ظاہر ہوئی اور اس کی نصرت آئی ، روز روشن کی طرح ظاہر ہوئی اُس وقت مومنوں کے دل میں ایک شرمندگی کا احساس پیدا ہوا کہ ہم یونہی جلدی کرتے تھے ، ہم یونہی باتیں کرتے تھے کہ دیکھو خدا تعالیٰ کی پکڑ نہیں آئی۔وہ تو آجایا کرتی ہے اور وہ گزرا ہوا زمانہ بھی چھوٹا اور مختصر دکھائی دینے لگا قومی طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی اور اب بھی میں نے بارہا ان لوگوں سے باتیں کر کے دیکھا ہے جن کو شدید تکلیفوں میں سے گزرنا پڑا ہے اب وہ جب مڑ کے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں وہ تو معمولی چند دن تھے گزر گئے پتہ بھی نہیں لگا اور اللہ کے فضل سے اب دائمی طور پر آچکے ہیں ہمارے پاس۔اس کے برعکس تقدیر ظاہر ہوتی ہے ظالم کے متعلق۔فرماتا ہے کہ ایک ایک دن ان کے لئے پھر ایسا آتا ہے جو ہزار برس کے مطابق بھاری ہو جایا کرنا ہے اور ٹلتا نہیں وہ دن اُن کا اور یہ ان کا انجام ہے اور الٹ جاتی ہے تقدیر یہاں آکر۔مومن کے سخت دن چھوٹے ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور وہ جو سمجھتے تھے کہ ہمارے آسائش کے دن ہیں ان کے دن سخت ہونے لگ جاتے ہیں۔چنانچہ اس کے معا بعد اسی مضمون کو پھر جاری فرما دیا کہ ہم جب ایک دن کی بات کرتے ہیں کہ ہزار برس کا تو مراد نہیں ہے کہ ہم پکڑیں گے ان کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا وَكَايَّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَمَلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَى الْمَصِيرُ یہ نہیں فرمایا کہ ظالموں کی نسلوں کو میں پکڑا کرتا ہوں۔فرمایا بسا اوقات ایسی بستیاں ایسی قو میں تمہیں ملیں گی جو ظالم ہوتی ہیں اور میں ان کو مہلت دے رہا ہوتا ہوں۔ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَاِلَى الْمَصِيرُ پھر میں انہی لوگوں کو پکڑ لیتا ہوں جو ظلم کر رہے ہوتے ہیں اور لا ز ما تم میں سے ہر ایک کے لئے میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔یہ جو میں نے کہا کہ دن بھاری ہو جاتا ہے مراد یہ ہے کہ ایک ایسا دن بھی آتا ہے جو