خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 662 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 662

خطبات طاہر جلدم 662 خطبه جمعه ۲ راگست ۱۹۸۵ء ان سے دوسری چیزیں تو لی جاتی ہیں، تمہارے پیمانے اور ہیں ان سے دوسری چیزوں کو ماپا جاتا ہے۔مگر اللہ کی تقدیر تو بہت وسیع ہے مگر ہے یقینی اور اس تقدیر کو کوئی دنیا میں بدل نہیں سکتا۔پس ماضی پر نگاہ کرو تو تمہیں اس کی بے شمار مثالیں نظر آجائیں گی۔یہ تو عمومی جواب ہے، ایک اور جواب ہے جو اسی جواب کے اندر ڈوبا ہوا موجود ہے لیکن اکثر لوگوں کو نظر نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ایسے ایسے دن بھی خدا کے پاس ہیں کہ تم یوں شمار کرو گے ان کو گویا ہزار سال کے دن ہیں۔مراد یہ ہے کہ خدا کے عذاب میں جلدی نہ کرو خدا کا عذاب جب آتا ہے تو بعض دن اس کے عذاب کے اتنے بھاری ہو جاتے ہیں کہ ہزار برس کا دن معلوم ہوتا ہے۔جس طرح بعض دفعہ تم شمار کرتے ہو اس طرح گنتیاں سالوں کو چھوٹا بھی دکھا دیا کرتی ہیں اور دنوں کو بڑا کر کے بھی دکھا دیا کرتی ہیں اور یہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم نے ایک سے زیادہ جگہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔قیامت کے دن فرمایا جب وہ باتیں کریں گے کہ ہم کتنی دیر رہے وہ کہیں گے کہ ایک دن یا اس کا معمولی سا حصہ۔اب جس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس پر جب آپ غور کریں تو اس معاملہ میں تقدیر خیر وشر کے بعض بہت دلچسپ پہلو سامنے آجاتے ہیں۔مصیبتیں ہوں، جب مشکلات ہوں تو تھوڑا زمانہ بھی بہت لمبا دکھائی دیتا ہے اور جب وہ گزر جاتا ہے تو وہی تکلیفوں کا زمانہ چھوٹا دکھائی دینے لگ جاتا ہے اور جتنا انسان اُس سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اتنا ہی زیادہ وہ مختصر اور معمولی اور بے حیثیت دکھائی دینے لگتا ہے تو اس جواب میں خدا تعالیٰ نے جہاں ان دشمنوں کو اور تعلی کرنے والوں کو اس طرف متوجہ فرمایا کہ خدا کے ایسے عذاب کے دن بھی آسکتے ہیں اور آنے والے ہیں کہ تمہارا ایک دن بھی ہزار برس کے برابر بوجھل ہو جائے گا اور تم پر بھاری ہو جائے گا۔وہاں مومنوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ اس وقت تمہارے گزرے ہوئے دن چھوٹے دکھائی دیں گے تمہیں۔وہ سالہا سال بھی جو تکلیفوں کے تم نے کاٹے ہوں گے جب خدا کی پکڑ آتی ہے یعنی جب مومنوں کے حق میں پکڑ آتی ہے تو ایسی بشاشت پیدا ہو جاتی ہے کسی کے خلاف تو وہ سمجھتے ہیں کہ اوہو! ہم تو خواہ مخواہ جلدی کرتے تھے ، خدا نے تو ایسا پکڑا اور وعدوں کو ایسا پورا فرمایا کہ ہم اپنی بے صبری پر شرمندہ اور معذرت خواہ ہیں۔اب انبیاء کی وسیع تاریخ تو بہت ہی لمبی ہے۔آپ جماعت احمدیہ کی مختصر سی تاریخ پر نظر