خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 661
خطبات طاہر جلدم 661 خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۸۵ء وہاں تک محدود نہیں رہتا۔یہ تو جو جواب ہے یہ بہت وسیع جواب ہے۔اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ تم لوگ چھوٹے چھوٹے کنویں کے مینڈکوں کی طرح خدا کی تقدیر کو بھی محدود بنا رہے ہو۔تم سمجھتے ہو کہ انفرادی ظلم کے نتیجے میں ہر جگہ جہاں انفرادی ظلم ہو گا وہاں خدا ایک دم اشتعال میں آجائے گا اور فوراً اُس کے عذاب نازل ہونے شروع ہو جائیں گے اور ایک دم حق ظاہر ہو جائے گا اور باطل بھی شکست کھا جائے گا یعنی اس طرح کھلا کھلا ہر ٹکڑے پر خدا کا نشان ظاہر ہوگا کہ کوئی شک کی گنجائش باقی نہیں رہے گی حالانکہ خدا تعالیٰ کی تقدیر ایک بہت ہی وسیع تقدیر ہے اور ضروری نہیں کہ تمہارے انفرادی جذبات کے ساتھ اس تقدیر کا بھی اُسی طرح تعلق ہو یا محدود پیمانے پر کسی قوم کے جذبات کے ساتھ اس تقدیر کا تعلق ہو۔خدا کی ایک عمومی تقدیر ہے جس میں قوموں کے عروج وزوال کے فیصلے ہوتے ہیں اور اس عمومی تقدیر کا دن ایک ایک ہزار برس کا بھی ہوتا ہے یعنی خدا جب کسی قوم کو سزا دینے کا فیصلہ کیا کرتا ہے تو بعض دفعہ وہ ایک ہزار برس کی سزا بھی ہوتی ہے۔ایسی رات آجاتی ہیں قوموں کی زندگی پر جن کو خدا متروک فرما دیتا ہے۔جس طرح چھوڑے ہوئے کنویں ہیں یا گری ہوئی بستیاں ہیں اس طرح قو میں بھی ایک عبرت کا نشان بن جایا کرتی ہیں اور ہزار ہزار برس تک لوگ ان سے عبرت حاصل کیا کرتے ہیں۔تو جس خدا کی تقدیر اتنی وسیع ہے اس سے تم کس عذاب کی جلدی کر رہے ہو۔ایک تو یہ جواب ہے جو خدا تعالیٰ کے عذاب کی تقدیر اور انعام کی تقدیر کی حکمت بیان فرما رہا ہے اور جب خدا قوموں پر انعام فرمایا کرتا ہے تو ہزار ہزار برس تک مردہ قومیں زندہ ہو کر دنیا پر حکومت کرنے لگتی ہیں اور یہ عجیب بات ہے کہ جب آپ دنیا کی تاریخ پر نظر کرتے ہیں تو ہزار سالہ دور ایک سے زائد جگہ ایک سے زیادہ زمانوں میں آپ کو دکھائی دے گا۔رومن ایمپائر کے ہزار سال اور اس کے بعد ان کے مٹنے کے ہزار سال اور تاریکی جوان پر طاری ہوگئی وہ ایک ہزار سال تک جاری رہی۔پھر ان کے عروج کا دور اور پھر اس کے ہزار سال اس قسم کے ہزار سالوں میں بٹی ہوئی قومی تاریخیں آپ کو جگہ جگہ دکھائی دیں گی اور جب ہزار سال کہا جاتا ہے تو مراد یہ نہیں کہ بعینہ ایک دو دن گنتے ہوئے آخر ہزار سال پورے کرتے ہیں۔یہ ایک عمومی محاورہ ہے کم و بیش ہزار سال تک ایک تاریخ پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔تو پہلے تو اللہ تعالیٰ سائل کو سنجیدہ بنا رہا ہے، کہتا ہے تم نے کتنا چھوٹا سا سوال کیا ہے اور سمجھتے ہو کہ تمہارے پیمانوں پر بھی خدا تعالیٰ کی تقدیر کو بھی ماپا جائے گا۔تمہارے اوزان اور ہیں