خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 660
خطبات طاہر جلدم 660 خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۸۵ء گنتی کے حساب سے جو تم شمار کرتے ہو۔تو اس کا تو یہ مطلب بنا کہ کافروں کو تو یہ پیغام دے دیا بظاہر کہ یہ ٹھیک ہے کہ تم ظلم کرتے چلے جاؤ، تمہاری اگلی نسلیں بھی ظلم کرتی چلی جائیں تمہاری اس سے اگلی نسلیں بھی ظلم کرتی چلی جائیں۔یہاں تک کہ دس پندرہ نسلیں تمہاری گزر جائیں آخر عذاب آجائے گا۔اب جس نسل کو یہ یقین دلایا جارہا ہو کہ تمہارے ساتھ جو عذاب کا وعدہ ہے وہ ضروری نہیں کہ تمہارے متعلق آئے تم پر وارد ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہزار سال کے بعد وہ عذاب تمہارے ان بچوں اور پوتوں پڑ پوتوں اور ان کے پوتوں پڑ پوتوں اور لامتناہی رشتے کی جو دوری ہے وہ جب ظاہر ہو چکی ہوگی تو اس وقت وہ ان لوگوں کو پکڑلے گا یہ تو ڈیٹرینٹ (Deterrent) نہیں ہے،اس سے تو حوصلہ شکنی ظلم کی کبھی نہیں ہوسکتی اور دوسری طرف مومنوں کو کیا پیغام ملتا ہے؟ کہ فکر نہ کرو، خدا تعالیٰ کے وعدے بڑے پکے ہیں، وہ ضرور پورے ہوں گے، آج نہیں تو ہزار سال کے بعد عذاب آ جائے گا، خدا تعالیٰ کا ایک دن ہزار برس کا دن ہوتا ہے، تو یہ مطلب تو ہر گز نہیں ہو سکتا۔اگر یہ معنی اسی طرح لئے جائیں تو یہ تو مومنوں کی حوصلہ شکنی اور دشمن اور ظالم کا دل بڑھانے والی بات ہے۔اس لئے مزید غور کرنا چاہئے ، فکر کرنی چاہیئے کہ آخر اس کا کیا تعلق ہے یہاں اس موقع پر یہاں؟ بات یہ ہے کہ یہ آیت بہت زیادہ وسیع مضمون رکھتی ہے یعنی یہ ٹکڑا آیت کا اس سے بہت زیادہ وسیع مضمون رکھتا ہے جو عموما سمجھا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ طریق ہے اور قرآن کریم ہمیشہ اس طریق کے ساتھ ایسا چمٹا ہوا ہے کہ کبھی ایک دفعہ بھی آپ کو استثناء نظر نہیں آئے گا کہ جب کوئی انسان سوال کرتا ہے تو خدا تعالیٰ جواب دیتے وقت اس کی فہم اور عقل کے مطابق جو سوال کیا گیا تھا اس طرح جواب نہیں دیتا کیونکہ سوال کرنے والا یا ناقص سوال کرتا ہے یا محدود سوال کرتا ہے اور جواب بھی اگر اسی حساب سے دیا جائے تو جواب بھی اسی حد تک ناقص اور محدود رہے گا اس لئے خدا تعالیٰ کا طریق یہ ہے کہ سوال دو ہرا کر اس سوال کو نظر انداز کر کے جو اصل سوال اٹھنا چاہئے۔جو زیادہ وسیع ہے اپنے مضمون میں جو برحق سوال ہے اس کا جواب شروع کر دیتا ہے۔یعنی ذہن مائل ہو جاتا ہے ایک سوال کی طرف اور پھر اُس سوال کی ناقص حالت کو چھوڑ دیتا ہے اللہ تعالیٰ اور جس طرح وہ سوال اٹھنا چاہئے اس کوملحوظ رکھتے ہوئے ایک وسیع جواب دیتا ہے جس میں ایک حصہ اُس سائل کے سوال کا بھی آجاتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ اپنے جواب میں