خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 648
خطبات طاہر جلدم 648 خطبہ جمعہ ۲۶؍ جولائی ۱۹۸۵ء تمہارے جگر گوشوں میں سے ہم احمدی پیدا کر کے دکھائیں گے۔تمہارے دل کے ٹکڑے تمہاری چھاتیوں سے نکل نکل کر ہماری چھاتیوں میں جگہ ڈھونڈیں گے۔اس طرح احمدیت خدا کے فضل سے پھیلے گی ، یہ ہے احمدیت کا انتقام۔تمہاری کیا مجال ہے کہ جماعت احمدیہ کا مقابلہ کر سکو اور ہر طرح سے تمہاری ہر کوشش ایک بالکل برعکس نتیجہ پیدا کرتی چلی جارہی ہے۔خلافت سے جماعت احمدیہ کو پہلے بھی محبت تھی ، پہلے بھی اطاعت کے رنگ میں رنگیں تھی لیکن جتنا تم دیکھ دینے میں بڑھ رہے ہو اتنا ان کی محبت ایک نئے انقلابی دور میں داخل ہوتی چلی جارہی ہے۔پہلے بھی خلفاء تحریک کیا کرتے تھے جماعت ہمیشہ ان تحریکات پر لبیک کہتی تھی ، قرنیاں دیتی تھی ، کبھی بھی تحریکات کو نا کام نہیں ہونے دیا لیکن اب تو بالکل اور ہی منظر مجھے نظر آرہا ہے۔اب تو یوں لگتا ہے جیسے منہ سے بات نکلی تو کہتے ہیں کہ مٹی نہیں لگنے دینی اس کو ، سر آنکھوں پر اٹھاتے ہیں ، دل میں بٹھاتے ہیں اور میری بہت وسیع ، بلند توقعات ہیں آپ سے لیکن ہر دفعہ میری توقعات سے بڑھ کر آپ محبت اور اطاعت کا سلوک کرتے ہیں۔یہ برکتیں کون پیدا کر سکتا تھا جماعت میں محض اللہ کا فضل ہے اور یہ تمہاری کوششوں کو نا کام دکھانا ہے خدا تعالیٰ نے ، ان کو تمہارے دلوں کی حسرات بنانا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ یہ پاک تبدیلیاں پیدا کرتا چلا جاتا ہے اس لیے نکلو، شوق سے نکلو، تمام دنیا میں نکو ، جہاں جہاں تم جاؤ گے خدا کی قسم ! وہاں وہاں احمدیت کا پودا پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ بڑھنے اور پھولنے لگے گا اور پھلنے لگے گا ایک کے ہزار ہوتے چلے جائیں گے ہماری یہ تقدیر تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں بتا چکے ہیں وہ مقبول دعاؤں کی صورت میں ظاہر ہورہی ہے اک سے ہزار ہوویں بابرگ و بار ہوویں حق پر شار ہوویں مولا کے یار ہوویں ( در مشین صفحه ۳۸) یہ ہے ہماری جماعت کی تقدیر۔اگر زور لگتا ہے تو بدل کر دکھا دو۔کبھی تم اس کو بدل نہیں سکو گے۔یہ تحریک جو ابھی پیچھے کی تھی گزشتہ سے پیوستہ جمعہ میں پریس کے لئے ، میں نے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مجھے بڑی بلند توقعات ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ سے اور یہ مشاہدہ کی بات ہے کوئی محض نظریاتی بات نہیں ہے۔جتنا مشاہدہ مجھے ہے تفصیل کے ساتھ احمدیوں کے دلوں میں