خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 58
خطبات طاہر جلدم 58 خطبه جمعه ۲۵/جنوری ۱۹۸۵ء ساتھیوں نے یہ بات بڑی حیرت کے ساتھ مشاہدہ کی کہ جب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پر کوئی حملہ کیا گیا تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث اس حوالہ کا کچھ حصہ پہلے سے پڑھ کر اور کچھ حصہ بعد کا پڑھ کر سنا دیتے تھے اور اس کے بعد کسی جواب کی ضرورت ہی نہیں رہتی تھی ، سننے والوں کے چہروں پر اطمینان آجاتا تھا کہ یہ حملہ فرضی ہے، کتر بیونت کا نتیجہ ہے، سچائی سے اس کا کوئی بھی تعلق نہیں ہے اور بعض جگہ وضاحت کی ضرورت پڑتی تھی تو وضاحت بھی فرما دیتے تھے۔لیکن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات اپنی ذات میں ہی اپنے اندر کا فی جواب رکھتی ہیں۔اگر سیاق وسباق سے الگ کر کے صرف ایک ٹکڑے کو نکال کر غلط رنگ میں تحریف کے طور پر پیش کیا جائے تو اس سے دل آزاری ہو سکتی ہے حالانکہ تحریر کا وہ مقصد نہیں ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہ بات کہنا ہی نہیں چاہتے تھے جو آپ کی طرف منسوب کی جارہی ہے لیکن اسے دل آزاری بنا کریا اپنی طرف سے گھڑ کر شائع کیا جارہا ہے اور اس کا جواب عوام سے چھپالیا گیا۔پس یتھی اس حکومت کی حکمت عملی۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں اس واقعہ سے پہلے ہی کتابیں ضبط ہونی شروع ہوگئی تھیں۔اسی پر بس نہیں کی پریس بھی ضبط ہو گئے ، رسالے اور اخبار بھی بند ہو گئے۔یہ بزدلی ہے جو ہمیشہ کمزوری کی نشانی ہوا کرتی ہے اور اس طرح انہوں نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔دنیا کی کوئی طاقت جو دلائل میں قوی ہو وہ بہتھیار نہیں اٹھایا کرتی اور دوسرے کی بات کے بیان کرنے کی راہ میں قانونی روکیں نہیں ڈالا کرتی۔یہ عقل کے خلاف ہے اور ان کے اپنے مفاد کے خلاف ہے۔اس لئے تمام قانونی کوششیں جو اس بات میں صرف کی جارہی ہیں کہ کسی طرح جماعت احمدیہ کے خلاف تو حملے ہو جائیں لیکن جماعت احمدیہ کو جواب کا موقع نہ ملے ، یہ شدید بزدلی کی علامت ہے اور شکست کا آخری اعتراف کہ اُن کے پاس دلائل کا فقدان ہے۔چنانچہ ایک طرف جماعت احمدیہ کو اتنا کم تعداد بتایا جارہا ہے کہ ستر اسی ہزار نفوس سے زیادہ ان کی حیثیت ہی کوئی نہیں اور دوسری طرف یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ احمدیت عالم اسلام کے لئے خطرہ ہے اور خطرہ بھی ایسا کہ اس سے پہلے عالم اسلام کے لئے ایسا خطرہ کبھی پیدا نہیں ہوا تھا اور اسی پرو پیگنڈہ پر بس نہیں کی بلکہ احمدیت کا لٹریچر بھی ضبط کیا گیا۔ان تمام اقدامات پر بڑے فخر سے یہ کہا جا رہا ہے کہ دیکھا اس خطرہ کا ہم نے حل کر دیا ہے۔