خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 631 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 631

خطبات طاہر جلد۴ 631 خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۸۵ء الله کے بعد جب اس نے یہ کہا کہ افسوس اس وقت پر میں وہاں نہیں ہوں گا۔ کاش میں ہوتا تو میں تیری مدد کرتا جب قوم تجھے اپنے وطن سے نکال دے گی۔ حیرت آنحضرت ﷺ کے چہرے پر ظاہر ہوئی تعجب سے، بڑی معصومیت سے پوچھا مجھے نکال دی گی ؟ یعنی میں اتنا ان لوگوں کے لئے مسلسل مجسم خیر مجھ سے ہمیشہ ان کو بھلائی پہنچی ہے اور اس سے قبل حضرت خدیجہ ان باتوں کو دہرا بھی چکی تھیں کہ جن کو چھٹی پڑ جائے اور کوئی ادا نہ کر سکے انکی چٹی کو وہ آپ بوجھ اٹھا لیتے ہیں، یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرنے والے ۔ وہ نوادر اخلاق جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں ان کو آپ نے دوبارہ دنیا میں قائم کر دیا ہے ایسے حسین اخلاق کا مالک انسان اسکو یہ کہا جائے کہ قوم تجھے نکال دے گی تو تعجب تو اسے ہوگا۔ پس آغاز رسالت سے یہی مقدر تھا اور اس آیت میں حضور اکرم " کو مخاطب کرنے کے نتیجہ میں یہ مسئلہ ہمیں سمجھ آیا ورنہ اگر ساری امت کو مخاطب کیا جاتا تو ہر گز نہیں کہہ سکتے تھے کہ تبلیغ کے نتیجہ میں فساد لازماً پیدا ہوتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطلب صرف اتنا ہے کہ لوگ غلطیاں کریں گے غلط طریق پر تبلیغیں کریں گے ، دل آزاریاں کریں گے اس لئے فساد پھیلے گا۔ تو واحد کے صیغہ میں مخاطب کرنے میں ایک اور بڑا عظیم الشان مضمون ہاتھ آگیا کہ آنحضرت علی کی تبلیغ کے باوجود ، باوجود اس کے عروس کہ آپ سے زیادہ پیار اور محبت اور شفقت اور رحمت اور حکمت کے ساتھ اور کوئی تبلیغ نہیں کر سکتا پھر بھی دنیا آپ کی مخالف ہو جائے گی اور آپ کی ایذا رسانی کی کوشش کرے گی ۔ ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کے ذمہ داری کس پر عاید ہوتی ہے ۔ آنحضرت ملا تو ہر قسم کی غلطی سے پاک تھے اس لئے لاز ما فریق ثانی پر ذمہ داری عاید ہوتی ہے فساد تو ہو گا لیکن فساد کے ذمہ دار وہ ہیں جو دکھ پہنچانے سادتو کے لئے مظالم کی راہ سے اور تعدی کی راہ سے اور جبر کی راہ سے خدا کے پیغام کو روکنے کی کوشش کرنے والے ہوں گے۔ صلى الله اس لئے جہاں تک تبلیغ کا تعلق ہے ہر احمدی کو یہ دو نکات خوب ذہن نشین کر لینے چاہئیں ۔ اول یہ کے تبلیغ کوئی طوعی چندہ نہیں ہے، کوئی نفل نہیں ہے کہ نہ بھی ادا کریں گے تو آپ کی روحانی شخصیت مکمل ہو جائے گی ، فریضہ ہے اور ایسی شدت کے ساتھ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ آنحضرت علی کو صلى الله عروسه مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تو نے رسالت کو ہی ضائع کر دیا اگر تبلیغ نہ کی تو ۔ آپ کی امت بھی جواب دہ ہے، ہم میں سے ہر ایک جواب دہ ہے پیغام رسانی لازماً ایک ایسا فریضہ ہے جس سے کسی وقت انسان