خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 630 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 630

خطبات طاہر جلدم 630 خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۸۵ء اب ذمہ داری کے لحاظ سے کئی قسم کے احتمالات سامنے آتے ہیں۔تبلیغ اگر غلط طریقے سے کی جائے تو اس کے نتیجہ میں فساد ہو سکتا ہے دل آزاری کی باتیں کی جائیں اور نا واجب ایسے دباؤ اختیار کئے جائیں کہ جس کے نتیجہ میں لوگ مجبور ہو جائیں مذہب تبدیل کرنے پر۔مثلاً پیسے دے کر ، عورتوں کا لالچ دے کر جس طرح بعض قو میں کرتی ہیں، نوکریوں کا لالچ دے کر اور دنیاوی اثرات استعمال کر کے اگر تبلیغ کی جائے تو لازماً اس کے نتیجہ میں یقینا فساد بھی ہوگا اور فساد کی ذمہ داری تبلیغ کرنے والوں پر ہوگی اس لئے یہ معاملہ الجھ جاتا ہے۔کیسے معلوم ہو کہ تبلیغ فی ذاتہ ایک ایسی چیز ہے جس کے نتیجے میں لازماً اشتعال پیدا ہو گا خواہ سو فیصدی تم معصوم ہو یہ سوال اٹھتا ہے۔جو چاہے طریق اختیار کر لو احتیاط کا، جس طرح چاہو حکمت سے کام لو، جتنی چاہو قربانیاں پیش کرو، جس قدر بھی تم میں توفیق ہے تم صبر سے کام لو اور ایثار سے کام لولیکن تبلیغ فی ذاتہ اپنے اندر ایک ایسی بات رکھتی ہے کہ لازماً اس کے نتیجے میں فساد ہوگا اور تمہاری مخالفت ہو گی۔یہ کیسے معلوم ہوا ؟ اس کا سب سے قطعی ثبوت اس آیت میں ہے جو میں نے آپ کے سامنے ابھی تلاوت کی ہے۔فرماتا ہے وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس محمد مصطفى ع سے بڑھ کر حکمت کے ساتھ تو تبلیغ کوئی کرنے والا کوئی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔جتنے انبیاء آئے انہوں نے بھی حکمت سے کی، جتنے گزشتہ انبیاء تھے انہوں نے بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، نرمی اور ملائمت سے بات کی اور جہاں تک ان سے ہو سکا وہ دل آزاری کے مقامات سے بچے لیکن حضور اکرم ﷺ سے بڑھ کر تبلیغ کو حکمت اور عاجزی اور انکساری اور ایثار کے ساتھ اور صبر کے ساتھ اور پیار کے ساتھ اور رحمت اور شفقت کے ساتھ کرنے کا گر تو اور کسی کو نہیں آتا تھا پس یہ جوفرمایا مخاطب کر کے کہ اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا اس میں یہ تنبیہ تھی کہ باوجود اس کے کہ تجھ پر کوئی حرف نہیں رکھ سکتا، تجھ پر کوئی انگلی نہیں اٹھ سکتی کہ تو نے اس رنگ میں تبلیغ کر دی کہ دنیا میں فساد پھیل گیا لیکن اس کے باوجود پھیلے گا اس کے باوجودلوگ تمہاری مخالفت کریں گے ، اس کے باوجود تمہیں دکھ دیئے جائیں گے۔چنانچہ آغا ز رسالت سے ہی اس کے آثار ظاہر ہو گئے تھے جب آنحضرت عے پر پہلی وحی نازل ہوئی اور حضرت خدیجہ نے آپ کی تسلی کی خاطر اپنے چا زادہ ہم زاد کو بلایا انہوں نے سمجھایا آنحضرت ﷺ کو آئے کہ یہ جو بات ہے اس میں کوئی وہم کی بات نہیں ، یہ رسالت کا مضمون ہے ، آپ کو اللہ تعالیٰ رسول بنا رہا ہے اور یہ کہنے