خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 621
خطبات طاہر جلدم 621 خطبہ جمعہ ۱۲ ؍ جولائی ۱۹۸۵ء اس طرح دو کہ تمہیں محسوس ہو کہ ہاں اس سے ہمیں تکلیف ہورہی ہے پھر دیکھنا کہ اللہ تعالیٰ اس تکلیف کو آسائش میں بدل دے گا۔لیکن غور طلب بات یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ نہیں فرماتے تمہارے پاس خواہ کتنا بھی پیسہ ہو اور ایک پیسہ بھی دے دو تو ٹھیک ہے ، فرماتے ہیں۔” جو شخص ایک پیسہ کی حیثیت رکھتا ہے وہ سلسلہ کے مصارف کے لئے ماہ بماہ ایک پیسہ دیوے“۔اب حیثیت رکھتا ہے“ کے الفاظ تو اس فقرے کی شکل ہی بدل دیتے ہیں۔” جو شخص ایک روپیہ ماہوار دے سکتا ہے وہ ایک روپیہ ما ہوا رادا کرے۔ہر ایک بیعت کنندہ کو بقدر وسعت مدد دینی چاہئے“ اب اس کے بعد تو کسی بحث کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔فرمایا ”ہر ایک بیعت کنندہ کو بقدر وسعت مدددینی چاہئے اگر اس کی وسعت ۱۱۸ کی ہے تو ۱۶/ا بھی اس کے لئے کم ہوگا اور عملاً جماعت میں جو چندہ دینے والے ہیں وہ ۱/۱۶ پر کہاں رہتے ہیں۔اول تو ۱/۱۶ با قاعدہ چندہ دینے والے بالآخر وصیت تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ان کو گھسٹتے گھسائے آخر چین نہیں آتا جب تک وصیت نہ کر لیں ۱۰اد ہیں ہو جاتا ہے اور پھر باقی مالی قربانیوں میں بھی خدا کے فضل سے اتنا حصہ لیتے ہیں کہ ان کا معاملہ بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔کہتے ہیں کیوں میں کہتا ہوں کہ تا خدا تعالیٰ بھی ان کی مدد کرے۔اگر بلا ناغہ ماہ بماہ ان کی مدد پہنچتی رہے گو تھوڑی مدد ہو تو وہ اس مدد سے بہتر ہے جو مدت تک فراموشی اختیار کر کے پھر کسی وقت اپنے ہی خیال سے کی جاتی ہے۔ہر ایک شخص کا صدق اس کی خدمت سے پہچانا جاتا ہے۔66 بعض ظاہر پرست لوگ یا جن کے دل ایمان سے خالی ہوتے ہیں۔یا ایمان کے عرفان سے خالی ہوتے ہیں۔اعتراض کرتے ہیں کہ جی جماعت میں جو شخص چندے دے اس کی قدر کی جاتی ہے گویا پیسے کی خاطر جماعت بنی ہے اور سار از دور پیسے پر ہے۔میں حیرت سے ان لوگوں کے منہ دیکھتا ہوں کہ تم کیا بات کر رہے ہو۔قرآن پڑھ کے تو دیکھو۔سارا قرآن جان مال ، جان مال کی قربانی سے بھرا پڑا ہے اور ہے کیا باقی ؟ یا تمہیں جان عزیز ہے۔یا مال عزیز ہے۔اب تو تم اس وقت کو پہنچ چکے ہو کہ مال جان سے بھی بڑھ کر عزیز ہو چکا ہے۔جو اپنی عزیز ترین چیز کو خدا کی راہ