خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 603
خطبات طاہر جلدم 603 خطبه جمعه ۵/ جولائی ۱۹۸۵ء ہے۔اس لئے یہ نقوش تو بہر حال نہیں مٹیں گے۔تم دیکھو کہ تمہارے وہ نقوش تو نہیں جو قرآن کی گواہی کے مطابق ہمیشہ مٹادیئے جایا کرتے ہیں اور صرف عبرت کے طور پر کھنڈرات کی صورت میں باقی قائم رکھے جایا کرتے ہیں۔کاش تمہیں دیکھنے کے لئے نور بصیرت عطا ہو لیکن افسوس کہ اب جبکہ میں یہ کھلی کھلی تصویریں دکھا رہا ہوں مجھے تو یہ یقین نہیں کہ یہ دیکھیں گے اور پہچانیں گے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تو فرمایا ہے کہ ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہوتا ہے (ابوداؤد کتاب الادب حدیث نمبر ۴۲۷۲) لیکن یہ نہیں فرمایا کہ ایک مومن سارے جہان کا آئینہ ہوتا ہے۔مومن کے چہرے میں اس کی زبان سے اپنی تصویر کو دیکھنا اورسنا اور مجھنا اس کی توفیق بھی مومن ہی کو چاہتی ہے۔جس میں ایمان کی بصیرت ہو وہی دیکھ سکتا ہے۔اس لئے تم عجیب بد نصیب لوگ ہو کہ ہمارے چہرے دیکھ کر اگر نہیں پہچان سکتے کہ یہ اللہ والوں کے چہرے ہیں ، یہ جھوٹوں کے چہرے نہیں ہیں۔تم ایسے بدنصیب ہو کہ اپنے چہروں کو دیکھ کر بھی نہیں پہچان سکتے تم نور بصیرت سے عاری ہو گئے ہو۔لیکن ساری قوم نہیں ایسے انـــــــمة التكفیر ہیں جن کا یہ حال ہے۔جہاں تک باقی قوم کا تعلق ہے یہی قرآن ہمیں خبر دیتا ہے کہ تمہیں بظاہراند ھیرانظر آئے گا اور یوں معلوم ہوگا کہ سارا علاقہ اندھیرے کے قبضہ میں جاچکا ہے لیکن یاد رکھنا کہ وہ خدا جواند ھیروں کا خدا ہے وہ نور کا بھی خدا ہے، وہ راتوں کے سینے پھاڑ کر ان میں سے نور کے سوتے نکال دیا کرتا ہے۔اس لئے اپنے رب سے دعاؤں میں کبھی مایوس نہ ہونا۔اگر ائمة التكفير کی تقدیر نہیں بدلنے والی کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ انہوں نے لازما یہ حرکتیں کرنی ہیں اور ان کی تقدیر میں ، ان کی قسمت میں نور بصیرت ہے ہی نہیں، تو ایسا ہی ہوگا۔لیکن ساری قوم پر ہر گز تم نے یہ فتویٰ نہیں دینا کیونکہ ایسے لوگ پھر انہی میں سے پیدا ہوتے ہیں جو اپنے ظالم آباؤ اجداد کی حرکتوں کے اوپر لعنتیں بھیجنے والے ہوتے ہیں۔وہ اندھیروں سے نور کی طرف حرکت کر کے نکل آتے ہیں اور وہ جن پر ان کے والدین لعنتیں بھیجا کرتے تھے ان پر وہ رحمتیں بھیجتے نہیں تھکتے اور روتے ہوئے دن کو بھی رحمتیں بھیجتے ہیں اور رات کو بھی رحمتیں بھیجتے ہیں اور اپنے آباؤ اجداد پر جنہوں نے ان پاک ابرار کے اوپر لعنتیں بھیجی تھیں ان پر پھر اپنے منہ سے یہ لعنتیں بھیجتے ہیں۔یہ تقدیر ہے قوموں کی جو ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی۔