خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 598
خطبات طاہر جلد ۴ 598 خطبہ جمعہ ۱۵ جولائی ۱۹۸۵ء یہ عجیب طرز کلام ہے فرعون نے یہ نہیں کہا تھا کہ إِنَّ هَؤُلَاءِ لَشِرْ ذِمَةٌ قَلِيلُونَ قرآن کریم سے یہ نہیں پتہ چل رہا قرآن کریم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فرعون نے کہا تھا اکٹھے کر کے لاؤ سب کو تا کہ تماشا دیکھیں کہ کون ؟ لون جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے۔ اور یہ نہیں فرمایا و قال ان هاؤلاء لشرذمة قليلون ۔ اس کو بغیر کسی وضاحت کے کھلا رہنے دیا گیا ہے فقرہ، معلوم ہوتا ہے جو علماء اکٹھے کرنے کے لئے گئے تھے انہوں نے اپنی طرف سے یہ باتیں شروع کر دیں تھیں اور یہ پراپیگنڈہ شروع کر دیا تھا کہ آؤ ا کٹھے ہو کر آؤ کیونکہ ایک نہایت ہی معمولی گھٹیا اقلیت ہے جو ہمیں غصہ دلا رہی ہے ، اب اس کا بدلہ اتاریں گے۔ تو یہ دلیل انہوں نے از خود قائم کی ہے اور پھر اس کو پھیلایا ہے۔ جب حکومت پوری طرح بیچ میں ملوث ہو گئی اور فرعون بھی ہار گیا۔ سارے اکٹھے ہو کر جو لوگ آئے تھے ان کی کچھ پیش نہیں گئی ۔ دلائل کی رو سے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے منہ بند کر دیئے تو پھر فرعون نے بھی وہی رستہ اختیار کیا جو اس سے پہلے وقت کے علماء نے مختلف اختیار کیا تھا اور کہا ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى (المومن : ۲۷) اب مجھے چھوڑو میں قتل کر کے دکھاتا ہوں ۔ اب پکارتا رہ جائے اپنے رب کو دیکھتے ہیں کیسے بچاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہی الہام ہوا ( تذکرہ صفحہ: ۱۶۹) اور جب یہ الہام ہوا ہو کسی وقت کے نبی کو اور اس کی ذات میں پورا نہ ہو تو بعض دفعہ اس کے غلاموں کی شکل میں صلى الله پورا ہوتا ہے اور اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ نعوذباللہ مرتبہ ایک ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جو کنگن دیکھے اور پھونکیں مار کے اڑا دیئے وہ ایک ایسے غلام کی شکل میں واقعہ پورا ہوا جس کو حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مقام و مرتبے میں کوئی دور کی بھی نسبت نہیں تھی۔ تو یہ معنی نہیں ہوا کرتے اس لئے بعض لوگ غلط فہمی سے اس طرف چل پڑتے ہیں اور مراتب کی بحث میں اور قوموں کو شوق ہوا کرتا ہے کہ اپنے وقت کے لوگوں کو جن سے محبت کرتے ہیں زبر دستی ان کے مراتب بڑھاتے چلے جائیں ۔ حالانکہ مرتبے تو خدا بڑھایا کرتا ہے بندوں کے کہنے سے،ان کی باتوں سے کبھی کوئی مرتبہ نہیں بڑھ سکتا۔ اس لئے اس دھو کہ میں اب مبتلا نہ ہو جائیں۔ میں جو مضمون بیان کرنے لگا ہوں اس کی حقیقت کو سمجھیں ۔ - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ الہام ہے لیکن آپ کے کسی غلام کی شکل