خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 596
خطبات طاہر جلدم 596 خطبہ جمعہ ۵/ جولائی ۱۹۸۵ء ہیں اور کہتے ہیں اب دیکھیں گے کہ یہ کس طرح بچ کے جائیں گے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِئَ إِنَّكُمْ مُّتَّبَعُونَ (الشعرا ۵۳) ہم نے موسی کی طرف وحی کی کہ تو میرے بندوں کو اپنے ساتھ لے کر یہاں سے نکل کھڑا ہو۔ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ یہ تمہاری پیروی کریں گے اور تمہارا پیچھا کریں گے۔فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَا بِنِ حُشِرِيْنَ (الشعراء: ۵۴) فرماتا ہے فرعون نے مدائن میں اکٹھے کرنے والے بھیجے إِنَّ هَؤُلَاءِ لَشِرْ ذِمَةٌ قَلِيلُونَ (الشعراء: ۵۵) اور کہا کہ یہ لوگ چھوٹی سی ، معمولی اونی کی اقلیت ہیں۔وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَابِظُونَ (الشعراء :۵۶) اور ان کو یہ جرات، یہ حوصلہ کہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔یہ مضمون مختلف رنگ میں قرآن کریم میں بیان ہوا ہے۔لیکن یہاں ترتیب ایک ایسی ہے جو خاص طور پر قابل توجہ ہے۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا نے جب حکم دیا تھا کہ اپنی جگہ چھوڑ کر باہر چلے جاؤ تمہاری پیروی کی جائے گی تو اس کے بعد تو کوئی مناظرہ نہیں ہوا۔اس کے بعد تو یہ نہیں کہا گیا کہ یہ ہمیں غصہ دلاتے ہیں پھر تو بات ہی ختم ہوگئی تھی۔اس لئے اس آیت کو بعد میں رکھنے کی بجائے پہلے کیوں رکھ دیا گیا۔یہ نہیں فرمایا کہ جب یہ سارا جھگڑا چل پڑا تو لَشِرْذِمَةً قَلِيلُونَ کہا اور یہ بھی کہا ہمیں غصہ دلاتے ہیں وَ إِنَّا لَجَمِيعٌ حَذِرُونَ (الشعراء: ۵۷) اور ہم باوجود اس کے کہ ہم بڑی جمعیت رکھتے ہیں اور موجود کھڑے ہیں نگران کھڑے ہیں پھر اللہ تعالیٰ فرما تا بظاہر ترتیب کے لحاظ سے کہ پھر ہم نے موسی پر وحی کی کہ اس جگہ کو چھوڑ واور چلے جاؤ۔لیکن اس بات کو جو آخر پر ہوئی ہے بظاہر اس کو پہلے رکھ دیا ہے اور اس کو بعد میں رکھ دیا ہے۔معلوم ہوتا ہے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کوئی ایسے واقعات رونما ہونے والے تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے پتہ چلتا ہے کہ تیرے پر ایسا زمانہ آنے والا ہے جو موسی" پر آیا تھا ( تذکرہ صفحہ ۳۶۶) اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے اس کی تشریح میں فرمایا کہ نہ اس وقت تک آیا جب تک مسیح موعود علیہ السلام زندہ رہے نہ آج تک کے خلفاء کی تاریخ میں یہ زمانہ آیا ہے اور چونکہ مسیح موعود علیہ السلام پر یہ اس بات نے لازماً صادق آنا ہے اس لئے آئندہ ایسا زمانہ ضرور آ جائے گا ( تفسیر کبیر جلد ۸ صفحه ۵۴۶ - ۵۴۷، تفسیر سورۃ الفجر )۔وہ