خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 53
خطبات طاہر جلدم 53 خطبه جمعه ۲۵/جنوری ۱۹۸۵ء ساری دنیا میں اس حکومت کی ابھر رہی ہے۔ان دنوں احمدیت پر اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر من گھڑت الزام لگا کر حملے کرنا حکومت کا معمول بن چکا ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں ایک چھوٹا سا رسالہ ہے جس کا نام ہے قادیانیت۔اسلام کے لئے سنگین خطرہ اسے وائٹ پیپر یعنی قرطاس ابیض کے سے اہتمام کے ساتھ شائع کر کے ساری دنیا میں بڑی کثرت سے تقسیم کیا گیا ہے۔ایک گزشتہ خطبہ جمعہ میں میں نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ میرا خود ارادہ ہے انشاء اللہ اس کے متعلق ایک ایک اعتراض کو سامنے رکھ کر کچھ بیان کروں گا۔لیکن اس عرصہ میں جماعت کے مختلف علماء اور لکھنے والوں نے اپنے طور پر بھی کوششیں کیں۔بعض دوستوں کو میں نے پیغام بھجوائے تھے انہوں نے بہت اچھے اور عمدہ مضامین تیار کر کے بھجوائے ہیں۔ان میں سے کچھ مضامین اشاعت کے لئے تیار بھی ہو چکے ہیں۔تاہم ان مضامین کا ایک تو ہر احمدی تک پہنچنا مشکل ہے۔دوسرے جماعت کا ایک حصہ غیر تعلیم یافتہ بھی ہے اور ایک حصہ ایسا بھی ہے جہاں پڑھنے کا رواج ہی نہیں ہے اور بعض لوگوں کے مزاج میں پڑھنے کی عادت بھی نہیں ہوتی اس لئے خطبات کے ذریعہ جتنا کثیر اور گہرا رابطہ جماعت سے ممکن ہے اتنا کسی اور ذریعہ سے ممکن نہیں ہے۔چنانچہ خطبہ کی کیسٹ (Cassette) کے ذریعہ رابطہ اور پھر کیسٹ کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کر کے مربیان مختلف جماعتوں سے جو رابطہ قائم کرتے ہیں اس کے میں نے بہت فوائد دیکھے ہیں۔رابطہ کا یہ ذریعہ بہت ہی مؤثر ثابت ہوا ہے۔گو اس سلسلہ میں جو علمی کوششیں کی گئی ہیں وہ اپنی جگہ بڑی عمدہ اور نہایت مفید ہیں ، ان سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔لیکن جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا میں خود بھی انشاء اللہ اس موضوع پر کچھ نہ کچھ کہوں گا۔تاہم آج کے خطبہ میں پہلے تو میں اس مخالفت کا پس منظر بیان کرنا چاہتا ہوں اور پھر مختصراً ان اعتراضات کولوں گا جو اس مبینہ قرطاس ابیض میں دہرائے گئے ہیں اور بعد میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے یا تو خطبات میں سلسلہ وار جواب دوں گا یا پھر کسی جلسہ کے موقع پر جب زیادہ وقت مہیا ہو بعض مضامین کو انشاء اللہ بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔جہاں تک اس مخالفت کے پس منظر کا تعلق ہے احباب جماعت کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ایک با قاعدہ گہری سازش کا نتیجہ ہے اور اس سلسلہ میں جو لمبی کوششیں ہو رہی ہیں اُن کو یہ پس منظر