خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 586 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 586

خطبات طاہر جلدم 586 خطبه جمعه ٫۵ جولائی ۱۹۸۵ء کیوں ایمان لے آئے ہو؟ اس پہلو سے جب آپ تاریخ اسلام کا جائزہ لیتے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وسلم کے اول زمانے میں اس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔حیرت ہے آپ تفصیل سے تاریخ پر نظر ڈالیں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اولین مخالفین نے۔یہاں جو میں اولین کا محاورہ استعمال کر رہا ہوں یہ کھول دیتا ہوں پوری طرح حقیقت یہ ہے کہ یہ زمانہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ ہے اور کل جو زمانہ آنے والا ہے وہ بھی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ ہی ہے اور جو پرسوں اور اس کے بعد اور اس کے بعد اور قیامت تک جو زمانے آتے چلے جائیں گے وہ سارے زمانے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے ہیں۔پس قرآن کریم نے صرف وہ تاریخ محفوظ نہیں کرنی تھی جو تاریخ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے دور میں یا آپ کے بعد خلفاء راشدین کی زندگی کے دور کی تاریخ تھی کیونکہ قرآن کریم تو زمانوں سے اس لحاظ سے بالا ہے کہ قیامت تک کے سارے زمانے جو ظاہر ہونے والے تھے وہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے تھے۔اگر یہ وہی تاریخ کی باتیں کر کے خاموش ہو جا تا قرآن کریم جو اولین کے دور کی باتیں تھیں تو بعد میں آنے والے اپنا ذکر کیسے پڑھتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کو محدود مانا پڑتا کہ قرآنی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ چند سال کا ہی زمانہ تھا وہی تاریخ محفوظ ہوگئی اور اس کے بعد کی باتیں قابل ذکر ہی نہیں ہیں۔پس وہاں اس کا فقدان ہونا ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ بعد کے زمانے میں یہ لازماً بطور پیشگوئی کے بات پوری ہونے والی ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ قرآن کریم نے کہا ہو کہ یہ ہوتا ہے اور وہ نہ ہورہا ہو۔اس لئے اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اول زمانے میں آپ کے مخالفین نے یہ اعتراض نہیں اٹھایا تو مقدر تھا کہ قیامت سے پہلے ایسے مخالفین آپ کے ضرور پیدا ہوں جو لازماً یہ اعتراض اٹھائیں کہ جو ہم پر نازل ہوا ہے ہم یہ بھی نہیں ماننے دیں گے ہمیں اس پر بھی غصہ آتا ہے۔چنانچہ جب میں نے تفصیل سے دیکھا تو حقیقتاً اس کے برعکس گواہیاں ملتی ہیں چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ( القر :۱۳۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ اول وہی قبلہ تھا جو اہل کتاب کا قبلہ تھا اور جب تک یہ