خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 585
خطبات طاہر جلدم 585 خطبہ جمعہ ٫۵ جولائی ۱۹۸۵ء قُلْ يَا هَلَ الْكِتَبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّا إِلَّا أَنْ أُمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَسِقُوْنَ کہ اے اہل کتاب ! یا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ان سے کہہ دے اہل کتاب سے کہ تم اس کے سوا ہم سے کیا برا منارہے ہو ، ہمارے متعلق اس کے سوا تمہیں کیا غصہ ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے اور اس بات پر ایمان لے آئے جو ہم پر اتاری گئی اور اس بات پر ایمان لے آئے جو ہم سے پہلے اتاری گئی تھی وَاَنَّ اَكْثَرَ كُمُ فَسِقُونَ اور برا منارہے ہو ہماری بدیوں کا حالانکہ تم میں سے اکثر فاسق لوگ ہیں۔جنہیں ہماری بدیاں قرار دیتے ہو وہ بدیاں تو یہ ہیں جو برا منانے والی چیز ہی کوئی نہیں اور اگر تم ان کو بدیاں ہی دیکھتے ہو تو اپنے حال پر تو نظر کرو تم میں بھاری اکثریت فاسقوں کی ہے۔اس میں یہ بات تو سمجھ میں آجاتی ہے کہ ایمان باللہ پر وہ قومیں جو اس وقت کے خدا پر (جو خدا ظاہر ہورہا ہوتا ہے اس وقت ) ایمان نہیں لاتیں برا مناتی ہیں ان لوگوں کے ایمان کو جو ایمان لے آتے ہیں۔یہ بھی بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ پر ایمان لانا بذات خود ایک ابتلاء کا موجب بن جاتا ہے اور وقت کے نبیوں پر ایمان لانا یہ بھی بذات خود ایک ابتلاء کا موجب بن جاتا ہے مگر یہ کیسے ابتلاء کا موجب بنا، اس بات پر غصہ کیوں آیا کہ ہمارے گزشتہ انبیاء پر جو وحی نازل ہوئی تھی اس پر بھی ایمان لے آئے۔یہ تو قدر مشترک ہے، یہ تو ان کے حق میں گواہی دینے والی بات ہے۔قرآن کریم کے نزول کے زمانے سے پہلے اس چیز کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔کبھی کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس نے یہ اعتراض کیا ہو کہ تم ہماری باتیں کیوں مانتے ہوگزشتہ قومیں یہ اعتراض کیا کرتی تھیں کہ بیوقوفو! تم ہماری باتیں کیوں نہیں مانتے ، ہمارے آبا و اجداد زیادہ سمجھ دار تھے، جس مذہب پر ہم نے اپنے آپ کو پایا وہ زیادہ مکمل ہے، زیادہ پیروی کے لائق ہے، ہم عجیب نئے رستے اختیار کر رہے ہو جو بجھی کے رستے ہیں۔ساری تاریخ قرآن سے پتہ چلتا ہے کہ مسلسل آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک یہی جھگڑا چلتا رہا ہے اور قرآن نے ایک نئی بات پیدا کر دی ہے کہ تم وہ لوگ ہو ( یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے لوگ) جو اس بات کو بھی برا منا رہے ہو کہ جو ہم پر وحی نازل ہوئی تھی پہلے اس پر