خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 584 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 584

خطبات طاہر جلد۴ 584 خطبه جمعه ٫۵ جولائی ۱۹۸۵ء ان تصویروں کو دیکھنے کے بعد وہ جن کی شکلیں ہو بہو ویسی ہیں پھر بھی نہیں پہنچانتے کہ ہم کن چہروں کو دیکھ رہے ہیں اور یہی چہرے خود ہمارے بھی ایسے ہی ہیں۔بہر حال جب میں نے اس مضمون پر مزید غور کیا اور قرآن کریم میں ہر طرف نظر ڈالی تو یہ دیکھ کر مجھے اور بھی حیرت ہوئی کہ اس مضمون میں بھی ایک عظیم الشان ارتقاء ملتا ہے اور اس پہلو سے یہ اتنا وسعت پذیر ہو جاتا ہے کہ اسے ایک یا دو یا تین خطبوں میں سنبھالناممکن ہی نہیں رہتا چنا نچہ پھر میں نے صرف چند نمونے کی آیات آج کے لئے اخذ کی ہیں تا کہ اس مضمون کو سر دست جتنا بھی بیان ہو سکے اسی خطبہ میں مکمل کر لیا جائے۔وہ ارتقاء یہ نظر آتا ہے کہ نبوت اپنے آغاز کے وقت اتنی تفصیلی نہیں ہے۔اس کے پہلوز ندگی کے ہر شعبہ پر اس طرح حاوی نہیں ہیں جس طرح بعد میں آنے والی نبوت جو تکمیل کی طرف جاری رہی تھی۔اس میں نئے نئے شعبوں کا اضافہ ہوتا رہا، انسانی زندگی کے جتنے شعبے ارتقاء کرتے رہے ان کے مطابق شریعت میں بھی ایک ارتقاء نظر آتا ہے۔یہاں تک کہ اس کی تعمیل حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ کی شریعت میں جا کر پوری طرح پورے نقوش کے ساتھ واضح ہوئی۔اور بدوں کی تاریخ میں بھی ایسا ہی ارتقاء نظر آتا ہے، بدوں کی تاریخ بھی اپنے آپ کو دہراتی تو ہے لیکن اس طرح نہیں دہراتی کہ جتنی بدیاں پہلوں نے کیں وہیں تک آ کر وہ ٹھہر جائیں۔ہر قوم نے ایک نئی بدی یا دونئی بدیوں کا اضافہ کیا ہے یا ایک سے زیادہ دو یا تین یا اس سے بھی زیادہ بدیوں کا اضافہ کیا ہے، نئے نئے شرارت کے پہلوسوچے ہیں جو پہلی قوموں کو نہیں سو جھے تھے ، نئی نئی حماقتیں کیں ہیں جنہوں نے حماقتوں کے نئے باب کھولے ہیں اور قرآن کریم نے اس تاریخ کو بھی اسی طرح محفوظ فرمایا لیا ہے اور آپ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ کس تفصیل کے ساتھ قرآن کریم ساتھ ساتھ اس پہلو کو بھی بیان فرما تا چلا جاتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ بدقسمت لوگ اگر وہ بد تھے تو انہوں نے وہ پہلے لوگ جوان جیسے بد تھے ان کے قدم پر قدم مارے بلکہ ان کی برائیوں میں اضافے کئے۔ان کی شرارتوں میں نئی نئی شرارتیں سوچ کر نئے شرارت کے باب کھولے۔اس پہلو سے جب ہم غور کرتے ہیں تو وہ آیت جس کی گزشتہ خطبہ کے آخر میں یہ بات چل رہی تھی اسی آیت میں مجھے اس قسم کا ایک ارتقائی مضمون نظر آیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: