خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 571 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 571

خطبات طاہر جلدم 571 خطبه جمعه ۲۸/ جون ۱۹۸۵ء سمجھ بیٹھنا مسیح ابن مریم جب آئے گا اور نبی اللہ ہونے کا دعوی کرے گا تو میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے ابو داؤد کتاب السلام باب خروج الدجال حدیث نمبر: ۳۷۶۶)۔اس کو کہیں دجال والی حدیث کی صف میں نہ لپیٹ دینا۔پھر فرمایا تم پر بات کھول دینی چاہئے تمہارے دماغ ایسے ہیں کہ میں خوب کھول کر بتا دیتا ہوں مسیح ابن مریم آئے گا نبی اللہ ہوگا ، نبی اللہ ہوگا ، نبی اللہ ہوگا ایک ہی حدیث میں چار مرتبہ اس کے لئے نبی اللہ کا لفظ استعمال فرمایا ( مسلم کتاب الفتن حدیث نمبر : ۵۲۲۸)۔پھر فرمایا کہ میرا بیٹا ابراہیم اگر یہ زندہ رہتا تو ضرور نبی اللہ بنتا اور صدیق نبی کہلا تا (ابن ماجہ کتاب الجنائز حدیث نمبر : ۱۴۹۹)۔یہ ساری حدیثیں چھپائے بیٹھے ہیں۔کیوں ان کا ذکر نہیں کرتے جرات کے ساتھ۔جب وہ دجال والی حدیث یا د آتی ہے تو ساتھ یہ آنحضرت علی کے جو اپنے ارشادات ہیں یہ کیوں بھول جاتے ہیں۔تو قرآن کریم سے بھی وہی سلوک کر رہے ہوتے ہیں جس پر قرآن نازل ہوا اس سے بھی وہی سلوک کر رہے ہوتے ہیں۔جو اس سے پہلے گزشتہ قوموں نے کیا تھا قدم بقدم وہی چیزیں دہرا رہے ہیں۔پھر یہ تو یاد آجاتا ہے کہ دجال کہا ہے بعض جھوٹے دعویداروں کو لیکن یہ کیوں ذکر نہیں کرتے کہ یہ بھی فرمایا ہے۔علماء هم شر من تحت اديم السماء (مشکوۃ کتاب العلم الفصل الثالث ) اس زمانہ کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہونگے اور یہ ان کو بھول جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ان سے ہی فتنے پھوٹیں گے اور ان میں ہی واپس لوٹ جائیں گے۔پھر یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب اختلافات ہوں گے تو سادہ لوح مسلمان اپنے مولویوں کے پاس جائیں گے کہ ان سے فیصلے کروائیں۔فَإِذَا هُم قِرَدَةً وَّ خَنا زیر ( کنز العمال) حیرت سے کیا دیکھیں گے کہ وہاں تو سور اور بندر ہیں۔چنانچہ یہ حدیثیں بھی تو چھپا جاتے ہیں اور یہ حدیثیں قرآن کریم میں جن آیات سے اخذ ہوئی ہیں جہاں ان کی بنیادیں ہیں ان پر بھی ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں شـر مـن تـحـت اديــم السـمـاء کا مطلب کیا ہے کیا یہ رسول کریم ﷺ کا اپنا محاروہ ہے یا قرآن نے اس کی وضاحت فرمائی ہے قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے اِنَّ شَرَّ الدَّوَابِ عِنْدَ اللهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ (الانفال: ۵۶) کہ جب جانوروں اور زندہ لوگوں کے متعلق شـــرمـــن تــحــت اديــم الـسـمـاء کہا