خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 564
خطبات طاہر جلدم 564 خطبہ جمعہ ۱۲۸ جون ۱۹۸۵ء فیصدی صادق ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ تاریخ عالم پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم کی تاریخ نے ہمیشہ اپنے آپ کو نہیں دہرایا لیکن جہاں تک مذہبی تاریخ کا تعلق ہے قرآن کریم سے یقینی طور پر پتہ چلتا ہے کہ مذہبی تاریخ ضرور اپنے آپ کو دہراتی ہے اور ہمیشہ سے دہراتی چلی آئی ہے۔چنانچہ جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں اسی دہرائی جانے والی تاریخ کے ایک دردناک پہلو کا ذکر ہے۔دہرائی جانے والی تاریخ دردناک بھی ہے، المیہ بھی ہے اور بشارتوں سے بھی تعلق رکھنے والی ہے۔قرآن کریم نے دونوں تاریخوں کا الگ الگ ذکر فرمایا ہے۔جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں اس المیہ تاریخ کا ذکر ہے جو ہمیشہ دہرائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هُذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ اور وہ تمام باتیں جو یا د رکھنے کے لائق ہیں ، جن کو نمونے کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے یا جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے وہ ساری ہم نے اس قرآن کریم میں لوگوں کے فائدہ کے لئے محفوظ کر رکھی ہیں۔یعنی کوئی ایک بھی ایسی بات تاریخ عالم میں باقی نہیں رکھی جومثل کے طور پر پیش کی جاسکتی ہو، جس کو دیکھ کر بنی نوع انسان استفادہ کر سکتے ہوں اور خدا تعالیٰ نے اس کا تذکرہ قرآن کریم میں نہ کیا ہو۔وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا لیکن عجیب ظالم انسان ہے ،اس کے باوجود اکثر باتوں میں بہت جھگڑالو ہے اور بہت ہی کج بحث ہے۔باوجود اس کے کہ ہر قسم کے تاریخی واقعات جن سے انسان سبق حاصل کر سکتا تھا ہم نے کھول کھول کر قرآن میں بیان فرما دیئے لیکن انسان کو دیکھو کہ پھر بھی جھگڑے کی راہیں نکالتا ہی چلا جاتا ہے۔16June 16۔28۔851 Backup σ khutba2۔jpg not found۔پس کیا نتیجہ نکلا ؟ نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کو اس بات سے کہ وہ ایمان لے آئیں جب ہدایت ان کو پہنچے اور پھر اپنے رب سے استغفار کریں اس بات سے انہیں کوئی چیز نہیں روکتی مگر شاید یہ تقدیر کہ انہوں نے پہلوں کے قدم پر ضرور قدم رکھنے ہیں اور پہلوں کی سنت پر ضرور چلنا ہے یعنی یہ طرز بیان اس رنگ میں ہے کہ گویا وہ فیصلہ کر بیٹھے ہیں کہ ہم نے تو اپنے پہلوں کے قدم بقدم ضرور چلنا ہے اور چونکہ یہ ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم نے ان کی سنت کو نہیں چھوڑ نا اس لئے ہم ایمان نہیں لائیں گے۔