خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 556
خطبات طاہر جلدیم 556 خطبه جمعه ۲۱ / جون ۱۹۸۵ء جب اس سلسلہ میں میں نے غور کیا تو قرآن کریم کی ان دو آنتیوں کی طرف میرا دھیان گیا جن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِايَتِنَا إِذَاهُمْ مِنْهَا يَضْحَكُونَ (الزخرف:۴۸) حضرت موسیٰ کا ذکر چل رہا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ ان کے سامنے کھلے کھلے نشانات لے کر آیا تو اچانک وہ استغفار کرنے کی بجائے مذاق کرنے لگے اور تمسخر میں مبتلا ہو گئے۔یہ واقعہ ایک دفعہ نہیں ہوا ، دو دفعہ نہیں ہوا، تین دفعہ نہیں ہوا ، بار بار اسی طرح ہوتا رہا قوم کے سامنے خدا تعالیٰ کی ظاہری تجلیات بار بار ظاہر ہوتی رہیں اور ہر دفعہ قرآن کریم کے بیان کے دوسرے حصوں سے پتہ چلتا ہے کہ کبھی تو وہ حضرت موسیٰ سے یہ عرض کرتے تھے کہ تو اپنے رب سے کہہ کہ وہ اس عذاب کو ٹال دے تو پھر ہم تجھے مان جائیں گے اور جب عذاب ٹل جاتا تھا تو پھر اسی طرح اپنی پرانی باتوں میں مصروف ہو جاتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اس طرح ہوتا رہتا ہے اور بعض لوگ کہتے تھے کہ یہ تو ان لوگوں کی نحوست ہے جو ہمارے اوپر ہے اس کے سوا اس کی کوئی حیثیت نہیں۔تو یہ ساری باتیں جو گزشتہ قومیں دیکھ چکی ہیں جب اپنی باری آتی ہے تو پھر یہ تو میں انہی حالات میں سے اسی طرح آنکھیں بند کر کے گزرتی ہیں جس طرح ایک بھیٹر جب کسی جگہ سے سر جھکا کر گزرے تو پچھلی ساری بھیڑیں بھی وہیں سے سر جھکا کر گزرتی ہیں اور اسی وجہ سے بھیٹر چال کا محاورہ شروع ہوا ہے۔اور عجیب ہے انسان اس تاریخی مطالعہ سے حیران ہو جاتا ہے کہ ہزاروں سال کی انسانی تاریخ یہ بتا رہی ہے کہ ایک دفعہ بھی کسی قوم کو استثنائی طریق اختیار کرنے کی توفیق نہیں ملی سوائے ایک قوم کے جس کو خدا نے پوری طرح ایک انذار کے نتیجے میں استغفار کی توفیق عطا فرمائی اور تو بہ کی توفیق عطا فرمائی جس کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے یعنی حضرت یونس بن متی کی قوم اور ر باقی تمام قوموں کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ بلا استثناء اسی طریق پر چلتی رہیں۔نشانات آتے تھے تو مذاق اڑاتے تھے پہلے بھی اور بعد میں بھی اور تمسخر کا طریق اختیار کرتے تھے ، حادثات قرار دے دیا کرتے تھے یا بدشگونی تھے ان لوگوں سے جن پر ظلم کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ ان۔ناراض ہوتا تھا۔پھر آگے فرماتا ہے اللہ تعالیٰ۔وَمَا نُرِيهِمْ مِنْ آيَةٍ إِلَّا هِيَ أَكْبَرُ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (الزخرف: ۴۹) کہ جب ہم پکڑ سکتے ہیں ایک ہی عذاب کے ساتھ اور ایک ہی بجلی کے جلوے سے قوموں کا صفایا کر سکتے ہیں اور پہلے کرتے بھی رہے ہیں تو پھر