خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 548
خطبات طاہر جلدم 548 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء سامنے ہم نے اس آگ کو گلزار ہوتے بھی دیکھ لیا۔یہ وہ لوگ ہیں خدا کے بندے، جن کو یہ راہ حق سے ظلم و ستم کے ذریعہ ہٹانا چاہتے ہیں، یہ وہ خدا کے بندے ہیں جن کو کلمہ توحید سے ظلم وستم کے ذریعہ ہٹانا چاہتے ہیں، اپنی سفا کیوں اور اپنے مظالم اور اپنے تاریک خیالات کی پیداوار، وہ تمام حرکتیں جو انبیاء کے دشمن انبیاء کے غلاموں کو راہ حق سے ہٹانے کے لئے اختیار کرتے تھے یہ وہ ساری حرکتیں کر رہے ہیں۔بے وقوف ہیں جو سمجھتے ہیں ان مظالم کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو راہ حق سے ہٹا سکیں گے۔جھوٹے اور نادان ہیں کبھی پہلے بھی اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوؤں کے غلام ان آزاروں سے ، ان تکلیفوں کی وجہ سے راہ حق سے ہٹے ہیں جو آج ہٹیں گے؟ پس میں ان سے کہتا ہوں اور ساری جماعت کی نمائندگی میں یہ کہتا ہوں کہ تم جو چاہو کرلو، جتنا زور لگانا ہے لگا لو۔خدا کی قسم ! ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے غلاموں کی راہوں سے نہیں ہٹیں گے نہیں ہٹیں گے اور احمدیت کا یہ قافلہ ہمیشہ آگے ہی بڑھتا چلا جائے گا۔جن راہوں پر تم چل رہے ہو تا ریخ انسانیت سے ثابت ہے کہ وہ ناکامی اور نا مرادی کی را ہیں ہیں۔وہ ہمیشہ تاریک راہوں کے طور پر دنیا پہ ظاہر ہوئیں اور ان راہوں پر آنے والوں نے نظر ڈالی تو ہمیشہ ان راہوں پر لعنتیں بھیجتے رہے۔وہ مغضوب علیھم کی راہیں ہیں وہ ضالین کی راہیں ہیں لیکن خدا کی قسم ! ہم جن راہوں پہ چل رہے ہیں وہ انبیاء اور ان کے اصدقاء غلاموں کی راہیں ہیں اور یہ وہ راہیں ہیں جو کہکشائیں بن کر آسمان پر چھکا کرتی ہیں۔ایک آسمان کی کہکشانوں کو ہم نے دیکھا ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اولین نے اپنے قدموں سے بنائی تھیں اور اسے دیکھنے والو، دیکھو! کہ محمد مصطفیٰ کے غلام ! آخرین میں ظاہر ہونے والے اب پھر ان کہکشانوں کو اپنے خون سے بنارہے ہیں، ان کو اپنی قربانیوں سے روشن کر رہے ہیں اور آئند ہ زمانہ ان چمکتی ہوئی کہکشانوں کو دیکھے گا اور ان سے سبق حاصل کرے گا اور ان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اورمحمد مصطفی ﷺ کے غلاموں پر ہمیشہ رحمت اور درود بھیجتا رہے گا۔پس مبارک ہو تم جو اس لیلۃ القدر کے زمانے کو پانے والے ہو۔مبارک ہو تم ! جنہوں نے اپنی قربانیوں سے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کی قدر کے لائق بن گئے۔خدا کی قدر کے لائق ٹھہرائے گے۔پس جو زور لگتا ہے تم لگا