خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 547
خطبات طاہر جلد۴ 547 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء وقت درس ہوتا ہے۔خوب تبلیغ کی جارہی ہے۔اتنی تبلیغ کا کبھی مجھے آزادی میں موقع نہیں ملا تھا جتنی اب مجھے اس قید خانہ میں تبلیغ کا موقع مل رہا ہے۔کیوں نہ ہو یہ سنت یوسفی کو زندہ کرنے والے نوجوان ہیں۔کہتے ہیں خدا گواہ ہے اب تو یہاں ایسا دل لگا ہے کہ واپس جانے کو دل نہیں چاہتا۔“ یہ واقعہ اور دوسرے نو جوانوں نے جو واقعات لکھے ہیں۔کلمہ لکھنا دیواروں پر اور پڑھنا اس پر مجھے غالب کا وہ شعر یاد آ گیا کہتا ہے: قید میں ہے تیرے وحشی کو وہی زلف کی یاد ہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا (دیوان غالب صفحہ : ۷۹ ) کہ قید میں تیرے وحشی کو تیری زلف کی یاد اسی طرح رہی وہ یاد قید چھین نہیں سکی۔ہاں جو زنجیریں تھیں ان کا بوجھ بھی تھوڑ اسا تھا اس کا رنج بھی تھا۔مگر دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فیض کو یہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کی سنت دوبارہ زندہ کر دی۔یہ وہ قیدی ہیں جن کو قید میں بھی خدا اور رسول کی یاد رہی اور یہ وہ قیدی ہیں جن کو رنج گراں باری زنجیر بھی نہیں تھا۔اس رنج کو بھی بھلا بیٹھے اور زندانوں سے یہ لکھ رہے ہیں کہ اب تو باہر جانے کو دل نہیں چاہتا۔جو لطف اللہ کی خاطر دکھ اٹھانے کا ، جو تبلیغ کا مزہ آ رہا ہے اس کا باہر بیٹھنے والا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا اور اللہ بھی ان کو اپنی رحمت کے ایسے حیرت انگیز نشان دکھا رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ ” میرا وہ بھائی جس کو نہایت ہی شدید زدوکوب کیا گیا اسے ساری رات مسلسل ہتھکڑیاں ہاتھ میں باندھ کر لٹکائے رکھا اس سے میں نے پوچھا کہ بھائی بتاؤ تو سہی تمہارا اس رات کیا حال ہوا؟ تو عزیزم ایوب نے مجھے بتایا کہ مجھے تو اتنا یاد ہے کہ وہ جب لٹکا کے چلے گئے تو مجھے اسی وقت نیند آ گئی جب آنکھ کھلی تو دن ہو چکا تھا کوئی تکلیف محسوس نہیں کی۔کہتے ہیں وہ ان دکھوں کے باوجود نہ صرف ہنستا ہے بلکہ دوسروں کو ہنساتا ہے اور ان کو حوصلہ دلاتا ہے۔کہتے ہیں وہ اسی حالت میں اپنے ساتھی قیدیوں کا دل بڑھا رہا تھا ہنس کر ان کو بتا رہا تھا کوئی بات نہیں اللہ کی خاطر بڑا مزہ آیا۔کہتے ہیں وہ تو ہنس رہا تھا اور میری آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری تھی کہ اے اللہ ! تیری کیا شان ہے کہ ہم تو پڑھا کرتے تھے کہ آگ گلزار ہوگئی مگر آگ کو گلزار ہوتے دیکھا کبھی نہیں تھا۔آج تو اپنی آنکھوں سے