خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 546
خطبات طاہر جلدم 546 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء کھڑا کر کے لاک اپ میں بند کر دیا۔صرف ایک دفعہ پیشاب کے لئے کھولا گیا۔چوبیس گھنٹے کے بعد جب ہمیں بلایا گیا اور کہا گیا اس کو کہیں کہ یہ اقبال جرم کر لے۔ہم نے کہا اس نے جرم کیا ہی نہیں تو اقبال کس بات کا کر لے۔تو ہمارے تین آدمیوں کے سامنے ڈی ایس پی مظہر نے حکم دیا کہ ایوب کو لاؤ پھر اس کو ننگا کر کے لٹایا گیا اور جو تشد د تو ڑا گیا اس کو بیان کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔میرے کانوں میں انگلیاں دینے کے باوجود اس کی چیچنیں سنائی دیتی رہیں یہ آج پاکستان میں خدمت اسلام ہو رہی ہے۔کس کے نام پر ؟ یہ خدمت کسی فرعون کے نام پر نہیں کر رہے، یہ کسی ابلیس کے نام پر نہیں کر رہے بلکہ اللہ کے پیاروں کے نام پر ، خدا کے مقدس لوگوں کے نام پر یہ ظلم ڈھارہے ہیں۔بے حیائی اور سفا کی کی اور بے غیرتی کی کوئی حد نہیں رہی نہ دین سے محبت ہے، نہ اسلام سے محبت ہے، نہ سید ولد آدم حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کا کوئی احترام ہے۔بعض لوگ گندی حرکت میں پکڑے جائیں، جب چوری میں پکڑے جائیں، کسی اور برے فعل میں پکڑے جائیں تو شرم کے مارے اپنے ماں باپ کا نام نہیں بتاتے وہ کہتے ہیں کہ ان کو کیوں بد نام کریں۔چنانچہ پولیس مارتی رہتی ہے وہ شرم کی وجہ سے نام نہیں لیتے کہ ہمارے ماں باپ کا نام ملوث نہ ہو جائے ان کو حیا نہیں کہ اس سے کئی زیادہ بھیانک جرائم کر رہے ہیں جو ایک عام مجرم کرتا ہے اور پھر حضرت محمد مصطفی ﷺ کا نام لیتے ہوئے نہ ان کو شرم آتی ہے، نہ ان کو حیا آتی ہے، نہ خدا کا خوف کھاتے ہیں مگر جیل میں جس طرح یہ لوگ وقت گزارتے رہے ہیں ان مشاغل میں یہ کوئی تبدیلی نہیں کر سکے۔ان کا ظلم، ان کی سفا کایاں کلیہ ناکام رہیں۔وہی صاحب لکھتے ہیں کہتے ہیں: در صبح اڑھائی تین بجے تہجد کی نماز بلا ناغہ باجماعت ادا کرتے ہیں۔ایسا رقت آمیز نظارہ ہوتا ہے کہ جو سپاہی سحری کھانے کے لئے آتے ہیں ہمیں تہجد میں روتے دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ہمارے زندان کو بھی پولیس کا میں بنا دیا ہے جہاں صبح و شام لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔جو بھی روٹی کھانے آتا ہے پوچھتا ہے کہ یہ معاملہ کیا ہے؟ شام کو روٹی کھانے آتا ہے تو ہم نماز مغرب ادا کر رہے ہوتے ہیں۔وہ بہت پریشان ہوتے ہیں کہ مولوی کچھ بتاتے تھے ان کے عمل بالکل حقیقی مسلمانوں جیسے۔بعض تو ہمارے سامنے ہی مولویوں کو گالیاں بھی دینے لگ جاتے ہیں۔دو