خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 536 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 536

خطبات طاہر جلدم 536 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء لئے کیمپ لگائے۔غریب آدمی جو آتا تھا اس سے فیس لینے کا تو سوال ہی کوئی نہیں تھا۔بکثرت لوگوں نے مجھے یہ بتایا کہ ان کی غربت کی وجہ سے اپنے پاس سے خرچ کیا کرتے تھے ، ان کے کھانے پینے کا انتظام کرتے تھے، ان کے بچوں کے لئے اخراجات دیا کرتے تھے۔نہایت بے نفس اور بےلوث انسان ، جس نے اپنوں کی بھی خدمت کی ، غیروں کے بھی دل مو ہے اور کسی سے کبھی کوئی جزا نہیں چاہی ، یک طرفہ احسان کا یہ سلسلہ جاری تھا۔ان کو بھی ابھی چند دن ہوئے بڑے ظالمانہ طریق پر شہید کر دیا گیا۔یہ جو شہادتیں ہیں ان شہادتوں کے نتیجہ میں وہ بہت پاکیزہ لوگ وہ پیارے وجود پاکستان سے رخصت ہورہے ہیں جو دراصل پاکستان کی بقا کے ذمہ دار ہیں۔ایسے وجود ہیں جن پر خدا کی رحمت کی نظر پڑتی ہے تو باقی لوگ بھی بخشے جایا کرتے ہیں۔اس پر مجھے حال ہی میں حبیب جالب نے ایک نظم کہی اس کا ایک شعر یاد آ گیا وہ کہتے ہیں کہ خاک میں مل گئے نگینے لوگ حکمراں ہوگئے کمینے لوگ کیسے کیسے نگینے لوگ تھے جو خاک میں مل گئے۔یہ طبعی نتیجہ ہے اس بات کا کہ کمینے لوگ ملک کے حکمران ہو چکے ہیں۔جب کسی ملک پر کمینگی مسلط ہو جائے تو پھر اچھے اور پاک لوگوں کے لئے خاک کے سوا کوئی جگہ بھی باقی نہیں رہتی۔قرآن کریم نے بھی اس مضمون کو ایک نہایت ہی اعلی پیمانے پر اس رنگ میں بیان فرمایا ہے جس سے قوموں کی آزادی اور ان کی غلامی کا فلسفہ عیاں ہوتا ہے۔یہ شعر تو محض ایک جذباتی اظہار ہے۔ایسے شعر بہت سے شاعروں نے کہے ہیں اور کہتے رہیں گے۔جب تک ظلم دنیا میں باقی ہے اس قسم کے شعر بھی انسانی تصورات میں جنم لیتے رہیں گے۔لیکن قرآن کریم تو کسی شاعر کا کلام نہیں ہے وہ جب اس قسم کی باتوں کا ذکر فرماتا ہے تو گہرا فلسفہ بیان فرماتا ہے کہ کمینے لوگ کیوں مسلط ہوا کرتے ہیں؟ اور یہ فلسفہ بیان فرماتا ہے کہ ہمیشہ کمینگی اس وقت مسلط کی جاتی ہے جب غیر ملکوں کا دخل ہو، جب غیر طاقتیں کسی ملک پر قابض ہونے لگیں تو خواہ وہ براہ راست قابض ہوں خواہ دوسروں کی معرفت قابض ہوں اس وقت ان کی پالیسی ان کی حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ کمینگی کو اوپر لایا جائے۔