خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 534 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 534

خطبات طاہر جلد ۴ 534 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء پاکستان میں جماعت پر جو حالات گزر رہے ہیں یہ ایک ایسی ہی رات کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔ وہ دکھوں کا دور جو ایک عرصہ سے جاری ہے جس میں سب سے زیادہ دکھ روحانی اذیت ہے جو جماعت کو پہنچائی جارہی ہے۔ ایسے ظالم لوگوں کو جو نہ قرآن کا عرفان رکھتے ہیں نہ سنت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پاس رکھتے ہیں کھلی چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ سلسلہ کے بزرگوں کو دن رات گالیاں دیں اور نہایت ہی گندے ناموں سے یاد کریں اور نہایت نا پاک انداز سے ان کا ذکر کرتے چلے جائیں اور گالیاں دیتے چلے جائیں۔ ہیں اکثر خطوط جو دکھ کا اظہار کرتے ہیں وہ ظاہری تکلیفوں کا نہیں بلکہ اس تکلیف کا اظہار کرتے ۔ ربوہ سے آنے والے خطوط خصوصیت کے ساتھ م ط خصوصیت کے ساتھ مرکز سلسلہ میں اس ناانصافی اور ظلم کی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں کہ جہاں محض اللہ خدا کے نام پر عبادت کی جاتی ہے وہاں تو اللہ کا نام لینے کی اجازت نہیں اور نہ لاؤڈ سپیکر کی اجازت ہے اور نہ اذانیں دینے کی اجازت ہے مگر جہاں اذانواں کے بہانے منبر رسول پر چڑھ کر نہایت مفحش کلام بکا جاتا ہے ، نعوذ باللہ من ذالک اسے منبر رسول کہنا ہی نہیں چاہئے ، وہاں ان کو کھلی چھٹی ہے۔ پانچ وقت اذان کے بہانے شدید گندی گالیاں دی جاتی ہیں۔ کان پک جاتے ہیں لیکن پھر بھی مسلسل ایذا رسانی کے نئے طریق ڈھونڈتے چلے جاتے ہیں ۔ ان کے ذہن نئے علم ایجاد کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہے ظا در اصل جو ذہن رات کی پیداوار ہوں جھوٹ اور فسادتر اشنا اور نئے سے نئے ظلم تراشنا ان کے لئے کچھ مشکل نہیں کیونکہ ظلم اور ظلمت دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ایک گہرا علاقہ رکھتے ہیں۔ ظلمت کا مطلب ہے تاریکی اور ظلم بھی تاریکی ہی کی پیداوار ہے۔ روشنی کے بچے کبھی ظلم نہیں کرتے نہ وہ ظلم کا سوچ سکتے ہیں۔ وہی لوگ ظلم وستم کی باتیں سوچتے اور پھر ان پر عمل کرتے ہیں جو تاریکی کی پیداوار ہوں ۔ یعنی جن کا نور سے کوئی واسطہ نہ ہو، جن کا کوئی تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے نور سے نہ ہو۔ بہر حال یہ روحانی طور پر ایذا رسانی کا سلسلہ بھی جاری ہے اور بدنی ایذا رسانی کا بھی جاری ہے اور بدنی ایذا رسانی بھی ساری جماعت کے لئے روحانی ایذا رسانی میں تبدیل ہو جاتی ہے کیونکہ ایک جگہ جب ایک مومن کو دکھ پہنچتا ہے تو ساری جماعت اس کے لئے بے قرار ہو جاتی ہے۔ چنانچہ