خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 47
خطبات طاہر جلدم 47 خطبه جمعه ۱۸/جنوری ۱۹۸۵ء ہور ہا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبریوں کا ان کے نتیجہ میں اس لئے میں امید یہ رکھتا ہوں خدا سے کہ ہم لوگ زندہ رہیں گے جب خدا تعالیٰ کی طرف سے عظیم الشان معجزات کو رونما ہوتے دیکھیں گے اور احمدیت کے دشمنوں کو خائب و خاسر اور نا کام اور یقیناً نامراد ہوتے دیکھیں گے۔لیکن اگر اُس کی تقدیر نے کچھ اور فیصلہ فرمایا ہے، اگر لمبی آزمائش کے دن ہیں اور بہت بڑی بڑی فتوحات نے بعد میں آنا ہے تو ہم تو کم فہم لوگ ہیں ، ہم تو اس کی تقدیر کے اندرونی معاملات کو سمجھ نہیں سکتے، اتنا یقین ہے کہ جس کے ہاتھ میں ہم نے ہاتھ دیا ہے وہ کبھی ہمیں نامراد اور نا کام نہیں چھوڑے گا ، وہ ایک یقینی ہاتھ ہے جو کبھی بھی اس کو جو امید کے ساتھ اور محبت اور یقین کے ساتھ تھامتا ہے اسے کبھی بھی رسوا اور نامراد نہیں کیا کرتا ، وہ کسی بے وفا کا ہاتھ نہیں ہے، وہ ایک قادر و توانا سب وفاداروں سے بڑھ کر وفاداری کرنے والے کا ہاتھ ہے اس لئے اس ہاتھ کو تھامے رہیں اپنی عبودیت کے مقام کو سمجھتے رہیں اور اس خدا کی عظمت کو دیکھیں تو اپنی امیدوں کو بلند کریں اور اپنی عبودیت کی طرف نگاہ کریں تو زمین میں بچھ جائیں اور خاک بن جائیں اس کے پاؤں کی اور وہم و گمان بھی نہ کریں کہ آپ بھی کسی رنگ میں کوئی شکوہ کا حق رکھتے ہیں۔