خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 525 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 525

خطبات طاہر جلد۴ 525 خطبہ جمعہ ۷ / جون ۱۹۸۵ء کریں گے لیکن میں باہر کے احمدیوں سے بھی درخواست کرتا ہوں اگر چہ ان کا وطن نہیں ہے لیکن وہ پاکستان کے زیر احسان ضرور ہیں ۔ بہت سے ایسے ملک ہیں جہاں پاکستان کی مٹی میں پلنے والے مجاہدین نے ، پاکستان میں پرورش پانے والے اسلام کے خدم نے والے اسلام کے خدمتگاروں نے نکل کر وہاں ملک سے ان کے ملک میں اسلام کی خاطر بڑی تکلیفیں برداشت کیں اور احمدیت کا پودا وہاں لگایا اور غیروں کے تسلط سے ان کو بچایا۔ افریقہ جانتا ہے کہ اگر احمدی مجاہدین وہاں نہ پہنچے ہوتے تو یا عیسائیت قابض ہو چکی ہوتی ان ملکوں کے اوپر یاد ہر نیت یا دوسرے ازم ان ملکوں پر قابض ہو چکے ہوتے ۔ تو یہ احسان ہے تو احمدیت کی طرف سے مگر احمدیت نے پاکستان میں جو پناہ حاصل کی اور یہاں جو مرکز قائم ہوا اور یہاں سے وہ مجاہد تیار ہوئے اس سے آپ انکار کر ہی نہیں سکتے کہ پاکستان بھی اس احسان میں شامل ہو چکا ہے۔ اس لئے صرف مذہبی احسان نہیں ہے اس ملک کا بھی احسان ہے تمام دنیا پر بڑے لمبے عرصہ تک پاکستانی حکومتوں نے اس معاملہ میں تعاون ہی کیا ہے عناد کی راہ اختیار نہیں کی مخالفت کی راہ اختیار نہیں کی۔ تو ساری قوم کا اس لحاظ سے احسان بنتا ہے۔ آپ فکر کریں اور پاکستان کے لئے دعا کریں اس لئے بھی کہ پاکستان کی مٹی سے آپ کی خدمت کے سامان پیدا ہوئے ہیں اور پھر اس لئے بھی کہ ساری جماعت کا مرکز ابھی تک وہاں ہے۔ اگر چہ اس کو بے اثر اور بے عمل کرنے کے لئے آج کی حکومت کوشش کر رہی ہے۔ ہر طرح سے ظلم کر رہی ہے لیکن یہ دن تو رہا نہیں کرتے ہمیشہ ۔ آئندہ ایسی حکومتیں بھی آسکتی ہیں جو تقویٰ اختیار کریں، جو انصاف پسند ہوں ۔ مرکز تو بہر حال وہاں موجود ہے اس مرکز کے نام کی خاطر ہی ، تو وہ جو رمضان کا خاص دعاؤں کا حصہ ہے وہ آنے والا ہے۔ اس لئے جہاں احمدیت کے لئے دعائیں کریں گے وہاں پاکستان کے لئے بھی دعائیں کریں اور هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن (۶۱) کی نصیحت کو پیش نظر رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کی دعاؤں کو قبول فرمائے اور پاکستان میں ایک صحت مند انقلاب کے سامان پیدا فرمائے۔ ایسا صحت مند انقلاب ہو کہ ہم فخر کے ساتھ کہہ سکیں کہ واقعہ پاکستان جس مقصد کے لئے بنایا گیا تھا اس مقصد کی حفاظت کے لئے اب یہ ایک نا قابل تسخیر قلعہ بن چکا ہے - لا اله الا الله محمد رسول اللہ کے نام پر بنایا گیا تھا اور اسی نام کی حفاظت کرتے