خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 524
خطبات طاہر جلد۴ 524 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء ہوں ، شدید ذہنی اذیت میں ہمیں مبتلا کیا جائے گا یہ بھی مجھے تسلیم ہے، ہمارے پیاروں کو گالیاں دی جائیں گی ہمارے سامنے اور مسلسل یہ ظلم کیا جائے گا یہ بھی میں مانتا ہوں لیکن جماعت کی ترقی کو تم روک سکو یہ ناممکن ہے۔ہر حال میں ہر ملک میں ہر تاریکی کے وقت بھی ہم آگے بڑھیں گے خدا کا جو نور ہمیں عطا ہوا ہے تم نہیں چھین سکتے تمہاری نسلیں بھی نہیں چھین سکتی اسے اس لئے ایک ہی نقصان ہے جو ہو گا وہ تمہارا نقصان ہے ، ہوتا رہا ہے، ہو رہا ہے مسل تمہاری آنکھیں بند پڑی ہیں اور سکسل ہوتا چلا جائیگا۔تمہاری کوئی ضمانت نہیں ہے کیونکہ تاریخ بتا رہی ہے کہ جب قوموں نے اپنے آپ کو برباد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو تو خدا کی تقدیر یہ اعلان کیا کرتی ہے کہ ہاں تم ہلاک کئے جاؤ گے اور اس میں اسلام اور غیر اسلام کے ساتھ کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔بغداد کے مقتول بھی تو وہ مسلمان ہی تھے جو قرآن کو سروں پر لے کر گلیوں میں باہر نکلے تھے اور خدا کے نام پر ہی وہ دہائیاں دے رہے تھے لیکن خدا کی غالب تقدیر نے ان کی ایک نہیں چلنے دی اور ایک نہیں سنی کیونکہ اللہ جانتا تھا کہ ظالم قوم نے خود اپنی ہلاکت کے بیج بوئے ہیں اس لئے تمہاری تو یہ تاریخ ہے۔کوئی نام تمہیں بچا نہیں سکے گا۔جن قوموں پر خدا کے نام پر خدا کی خاطر ظلم ہوتے ہیں باہر سے اور وہ استقامت دکھاتے ہیں ان کو دنیا میں کوئی نہیں مٹا سکتا اس لئے ہماری فکر تم چھوڑ رب کعبہ کی قسم کہ وہ خود ہماری حفاظت کرے گا۔تم اس پیارے وطن کی فکر کرو جو ہمیں بھی عزیز ہے اور تم سے زیادہ اس کے نقصان کا دکھ ہمیں بھی پہنچے گا لیکن ہم اس معاملہ میں بے اختیار ہیں سوائے اس کے کہ حرف ناصحانہ کہ سکیں۔ایک غریبانه درخواست کر سکیں اس سے زیادہ ہمیں کوئی طاقت نہیں۔ہاں جہاں تک جماعت کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے یہ میں ضرور جماعت کو نصیحت کروں گا کہ اس تعلق کو استعمال کریں اور دعائیں کریں اور گریہ وزاری کریں اور استغفار کریں کثرت کے ساتھ اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو نصیحت دے ان کو عقل دے، ان کی آنکھیں کھولے کیونکہ واقعہ ملک اس وقت ایسے ہلاکت کے کنارے پر پہنچ چکا ہے جسے قبروں میں پاؤں لٹکانا کہتے ہیں اور پوری قوم ملوث ہے اس فلم میں۔اپنے اپنے مفادات کی خاطر ، اپنے اپنے دھڑوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے سارے مل کر قوم پر ظلم کرتے چلے جار ہے ہیں اور دیکھ نہیں رہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔آئندہ جو رمضان کے بقیہ دن ہیں ان میں ملک کی بقا کے لئے پاکستانی تو بہر حال دعا