خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 523 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 523

خطبات طاہر جلدم 523 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء کرو جس طریق سے ٹھیک کرنا چاہئے انسانی اقدار کو زندہ کرو، انسانی شرافت کو زندہ کرو۔حق کو حق کہنا سیکھو، باطل کو باطل کہنے کی جرات اختیار کرو، اس کے بغیر یہ ملک بچتا نہیں۔ایک ہی خطرہ ہے اس ملک کو ، ملائیت سے خطرہ ہے اور یہ خطرہ اب حد اعتدال سے تجاوز کر چکا ہے۔نہایت ہی بھیانک شکل اختیار کر چکا ہے سارے عالم اسلام کو لاحق ہوا ہوا ہے تم ایک حصہ ہو اس خطرے کا۔اس خطرے نے ایران میں ایک اور شکل اختیار کر لی ہے، عراق میں ایک اور شکل اختیار کی ہوئی ہے، شام میں ایک اور شکل اختیار کی ہوئی ہے، لبنان میں ایک اور شکل اختیار کی ہوئی ہے، ایک ملائیشیا میں شکل اختیار کی ہوئی ہے، ایک انڈونیشیا میں شکل اختیار کی ہوئی ہے اور اس خطرے کے پیچھے نہایت ہی خطرناک منصوبے کام کر رہے ہیں ، عالمی سازشیں کام کر رہی ہیں۔ان خطرات کو ابھارا جارہا ہے، کیونکہ دنیا کی سمجھ دار تو میں جو اس وقت مسلط ہیں دنیا پر وہ جانتی ہیں کہ جب تک قوموں کے لئے اندرونی خطرات پیدا نہ کئے جائیں اس وقت بیرونی طور پر انھیں سرنہیں کیا جاسکتا، ان میں دخل نہیں دیا جاسکتا ، ان کی سیاست کو اپنے کنڑول میں نہیں لیا جا سکتا۔پس یہ سارے عالم میں جو ظلم ہو رہا ہے اسلام پر اسلام ہی کے نام پر اُس کا ایک حصہ ہے جو پاکستان میں ہو رہا ہے اور تم ظلم سے باز نہیں آرہے اگر یہی تم نے اپنے لئے راستہ اختیار کیا تو جو چاہو کر لو لیکن ہم تو وہ Birth Mark ہیں جو وجود کے مٹنے کے بعد بھی زندہ رہے گا کیونکہ خدا تعالی نے قائم فرمایا ہے اور خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نشان کو دنیا میں کوئی مٹا نہیں سکتا۔ہماری تو ضمانت ہے ہم ہر حالت میں ترقی کرتے رہے ہیں اور ہر حالت میں ترقی کرتے چلے جائیں گے۔اگر اس ترقی کی راہ میں روک ڈالنا چاہتے ہو تو سارا ایڑی چوٹی کا زور لگا لو تم ہرگز کامیاب نہیں ہو سکو گے۔دنیا کے کسی خطے میں کامیاب نہیں ہو سکو گے۔جہاں ہماری تعداد زیادہ ہے وہاں بھی ناکام رہو گے، جہاں ہماری تعداد کم ہے وہاں بھی ناکام رہو گے کیونکہ خدا کی حفاظت کا ہاتھ ہر وقت ہمیں گھیرے ہوئے ہے اور وہ دشمن کو ایسا نقصان پہنچانے سے لازماً باز رکھے گا جس سے ہماری ترقی رکتی ہوئی دکھائی دے جس سے ہم تنزل کی راہ اختیار کرتے ہوئے نظر آئیں دشمن کو۔ایک دن ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرے گا ہماری تاریخ میں کہ آگے بڑھنے کی بجائے ہم پیچھے جائیں۔شہید ہونگے ، دکھ دیئے جائیں گے، مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے ، گھر بھی جلیں گے میں مانتا