خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 511
خطبات طاہر جلدم 511 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء طرف سے مسلمان حکومتوں کے دوران کیا گیا ہے، بنیاد میں اس وقت رکھی گئی ہیں۔اگر آج ایک عالم اسلام ہوتا تو ان فسادات کا سوال ہی کوئی نہیں تھا مشرق و مغرب نہ آپس میں پھٹتے نہ اتنے فسادات نہ اتنی بڑی تباہیاں دنیا میں آتیں۔جنگ عظیم اول بھی نہ ہوتی ، جنگ عظیم ثانی بھی نہ ہوتی دنیا کا نقشہ بالکل اور ہونا تھا۔یہ جو کمیونزم کی فلاسفی ہے یہ بھی مغرب میں جنم دی گئی ہے، عیسائیت کی غلط تعلیم اور عیسائی ملکوں کے غلط اعمال کی وجہ سے یہ تعلیم دنیا کے سامنے آئی ہے ورنہ یہ فلسلفہ پیدا ہی نہیں ہونا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ علماء جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے شروع سے ہی دوحصوں میں بے رہے ہیں۔ایک وہ جو متقی ہیں جو خدا کا خوف کرنے والے اور اسلام سے محبت کرنے والے ہیں۔وہ ہمیشہ دین کی خدمت میں وقف رہے ہیں اور ان کا بہت بڑا حسان ہے جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے اور قیامت تک وہ احسان جاری رہے گا لیکن ایک علماء سوء ہیں اور ان کی ایک نمایاں پہچان ہے ان کی پہچان یہ ہے کہ یہ بیرونی خطرات سے کلیہ آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور ان کو سوائے اندرونی خطرات کے کچھ نظر ہی نہیں آتا مجاہدین اسلام کی ساری کمائی کو تباہ کرنے کے ذمہ دار، ان کی ساری محنتوں کو اکارت کرنے کے ذمہ دار علماء سوء ہیں۔ان کی نظر کو اسلام کے لئے جو خطرہ نظر آتا ہے وہ مسلمانوں سے خطرہ نظر آتا ہے۔یہ ان کی پہچان ہے، غیروں سے کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔نہ ان کو عیسائیوں سے خطرہ نظر آئے گا، نہ ان کو بد مذھبوں سے خطرہ نظر آئے گا، نہ دہریوں سے خطرہ نظر آئے گا، باہر کی طرف آنکھ ہی نہیں کھلتی ان کی۔ان کو خطرہ نظر آتا ہے کہیں شیعہ سے، کہیں حنبلی سے، کہیں احمدی سے، کہیں وہابی سے، کہیں بریلوی سے اور اندرونی طور پر ایک دوسرے کا خطرہ دیکھتے ہیں اور باہر کی طرف ان کی آنکھ نہیں جاتی۔یہ ان کی خاص پہچان ہے اور جب مسلمان کو مسلمان سے لڑاتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں بڑی بڑی عظیم اسلامی سلطنتیں تباہ ہوکر رہ جاتی ہیں۔اس وقت پھر ملائیت کا دور ہے اور تمام عالم اسلام کو ملائیت کی طرف سے خطرہ ہے۔آپ دیکھ لیں جتنی تحریکیں اس وقت چل رہی ہیں فساد کی ان سب میں ملا ئی عصبیتیں کارفرما ہے۔ایران اور عراق کی جنگ ہے یا فلسطین میں دو جتھے آپس میں ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔ان سب