خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 510
خطبات طاہر جلدم 510 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء جہاں تک مستعصم باللہ کا تعلق ہے اس کے متعلق بعض مؤرخین ایک بڑا دردناک واقعہ لکھتے ہیں ، ابن خلدون نے بھی لکھا ہے اور بعض دوسرے مؤرخین نے بھی۔ابن خلدون تو اس واقعہ میں نصیر الدین کا نام نہیں لیتے لیکن بعض دوسرے مؤرخین نصیر الدین کا نام لے کر اسے اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہلاکو خاں نے سب کو جو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو خلیفہ وقت کو مارنے سے وہ رکا اور اس کا دل دھڑ کا کیونکہ یہ عام روایت تھی اس زمانہ میں کہ اگر خلیفہ وقت کا خون کہیں بہے تو بہت بڑی تباہی آتی ہے۔چنانچہ ہلاکو خاں نے نصیر الدین سے ذکر کیا کہ مستعصم کو تو میں نہیں قتل کروا سکتا کیونکہ اگر اس کا خون زمین پر گرا تو اس سے بہت بڑی ہلاکت آئے گی اور ہم بھی اس کا شکار ہو جائیں گئے۔نصیر الدین نے جواب دیا کہ بڑی آسان ترکیب ہے زمین پر خون گرنے ہی نہ دواس کو بوریوں میں لپیٹو اور ٹھڈوں اور لاٹھیوں سے مارو! چنانچہ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ اسی طرح کیا گیا بوریوں میں لپیٹ کر ٹھڈوں اور لاٹھیوں سے مارا گیا اور اسی طرح بند کا بند اس نے نہایت ہی دردوکرب میں جان دی اور اس وقت ابن علقمی نے آکر اس کو ٹھڈے مارے اور اس سے کہا کہ اس طرح انتقام لیا جاتا ہے۔جہاں تک ابن خلدون کا تعلق ہے وہ نصیر الدین کی بات تو نہیں بیان کرتے لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ پہلے ہاتھی سے کھنچوایا گیا اس بوری کو اور اس طرح لڑکھتے ہوئے گھسٹتے ہوئے اس نے جان دی اور پھر اس کے بعد انتقامی کارروائی ہوئی ٹھڈوں کی اور جو کچھ بے عزتی کی جاسکتی تھی۔تو یہ تھا علماء کا کردار، علماء سوء کا کردار جنہوں نے اسلام کے نام پر دو عظیم الشان اسلامی سلطنتوں کو تباہ و برباد کر وا دیا اور اگر یہ دونوں سلطنتیں قائم رہتیں اور مسلمان علماء یہ بھیا نک کر دار ادا نہ کرتے تو آج نہ روس کا وجود کہیں نظر آتا، ایک دہر یہ حکومت کے طور پر میرا مطلب ہے، نہ آپ کو چین کی دہریہ حکومت نظر آتی ، نہ جاپان والے خدا کے منکر ہو کر ایک نئے خدا کا تصور پیش کر رہے ہوتے۔بدھ ازم کا جو نام ہے یہ بھی شاید علمی طور پر سننے میں آتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ مشرق و مغرب پر کلیہ مسلمان حکومتیں قائم ہوتیں اور مسلمان علماء جولڑتے نہ آپس میں اور فساد نہ کرواتے تو ان کے فیض سے میں یقین رکھتا ہوں کہ پھر اسلام بھی ساتھ ساتھ پھیل جاتا۔تو آج جتنے فسادات دنیا میں ہیں، جتنے خطرات دنیا کو در پیش ہیں ان کا آغاز علماء سوء کی