خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 505
خطبات طاہر جلدم خطرہ بن گئے۔505 خطبہ جمعہ ۷/ جون ۱۹۸۵ء چنانچہ اس کا آغاز سپین میں عبد الرحمن اول کی وفات کے بعد ۱۷۲ھ میں ہوا۔LANE POOLE بڑے تعجب سے یہ بات لکھتا ہے کہ پہلی بغاوت جس نے اسلامی مملکت کو کمزور کیا اور پھر آگے بغاوتوں کا آغاز کیا وہ عبد الرحمن کی وفات کے بعد ۷۲ ہجری میں ہوئی لیکن یہ عیسائیوں کی طرف سے نہیں ہوئی یہ نئے آنے والے Tribes اور قبائل کی طرف سے نہیں ہوئی نہ بر بروں کی طرف سے ہوئی، نہ عرب قبائل کی طرف سے ہوئی۔وہ لکھتا ہے کہ تعجب ہے کہ یہ بغاوت قرطبہ کے فقہاء کی طرف سے ہوئی، جنہیں فرزندان اسلام کا نام دیا جاتا ہے اور اس کے بعد جو بغاوتوں آغاز کیا گیا وہ ایک لمبالا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا جسے پھر آخر وقت تک کوئی بھی روک نہیں سکا۔چنانچہ پین میں تقریباً آٹھ سو سال تک، ساڑھے سات سو سے کچھ عرصہ زائد مسلمانوں کی حکومت قائم رہی اور ۱۴۸۶ء میں جب ابوعبداللہ نے ہتھیار ڈالے ہیں اور آخری مرتبہ اپنی حکومت کے آخری فرمانروا کے طور پر دستخط کئے ہیں اور ۱۴۹۲ میں یا ۱۴۹۱ء کے آخر پر کلیہ اس حکومت کا وہاں سے صفایا ہوا ہے۔تو یہ دور بھی مؤرخین کے مطابق دراصل ان اندرونی فسادات کا ایک لازمی طبیعی منطقی نتیجہ تھا جو زیادہ تر مذہب کے نام پر خود علماء نے پھیلائے تھے اور خصوصاً اس آخری دور میں علماء غیر معمولی طور پر حرکت میں آچکے تھے اور اس وقت جو مجاہدین اسلام سر دھڑ کی بازی لگا رہے تھے اس ٹوٹتی ہوئی سلطنت کو بچانے کے لئے ان کے خلاف عوام الناس میں اسلام کے نام پر نفرتیں پھیلائی جارہی تھیں اور ان کو اسلام کا بھی باغی قرار دیا جارہا تھا اور وطن کا بھی باغی قرار دیا جارہا تھا۔چنانچہ سپین میں یہ اسلام کا بہت ہی دردناک دور ہے کہ خود مسلمان علماء نے اپنے مجاہدین کے خلاف ایک اندرونی محاذ کھول رکھا تھا اور ہر دفعہ ان کی ناکامی میں مسلمان علماء کے فتنہ وفساد کا دخل موجود نظر آتا ہے۔تو وہ عظیم سلطنت جسے غیروں کی تلوار سر نہیں کر سکی اسے مسلمان علماء کے فتووں کے قلم نے سر کر دیا اور اسلام کی ریاست کو اتنا عظیم نقصان پہنچا ہے کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔آج جس جگہ آپ بیٹھے ہوئے ہیں۔یورپ کی یہ تمام مسلہ سلطنتیں کلیہ مسلمانوں کے زیر نگیں ہوتیں اگر سپین میں مسلمان علماء فتنہ وفساد کے ذریعہ مسلسل سینکڑوں سال تک اسلامی حکومتوں کو پیہم کمزور نہ کرتے رہتے۔ہر صدی میں انہوں نے فتنہ و فساد میں نمایاں کردار کیا ہے۔ایک ایسا بھی دور آیا تھا کہ جب فرانس میں