خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 492 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 492

خطبات طاہر جلدم 492 خطبه جمعه ۳۱ رمئی ۱۹۸۵ء چوکھٹا بنا ہوا ہے اس کے اوپر کی طرف دس کا ہندسہ لکھا ہوا ہے اور نیچے قمر لکھا ہوا ہے اور بائیں طرف ایک لمبا چوکھٹا ہے اور اس کے اندر تاریخیں لکھی ہوئی ہیں یا ہند سے لکھے ہوئے ہیں اور اکتیس پر جا کر وہ شمار ختم ہو جاتا ہے اور اکتیس کا ہندسہ نمایاں چمک رہا ہے۔انہوں نے اس کی کوئی تعبیر نہیں لکھی اور نہ ان کا ذہن اس طرف گیا مگر چونکہ Friday The 10th والے کشف سے مجھے اس کا تعلق معلوم تھا۔اس لئے واضح طور پر مجھے یہ سمجھ آئی کہ اس مئی کو چاند کی دسویں تاریخ ہے اور دن جمعہ کا ہے اور اس جمعہ کے روز کوئی ایسا واقعہ رونما ہونے والا ہے جس کا تعلق اس کشف سے بھی ہے اور اس رویا سے بھی ہے۔چنانچہ اس خیال سے میں نے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو پہلے ہی متوجہ کر دیا تھاوہ نظر رکھیں کہ رمضان کو کیا غیر معمولی واقعہ پیش آتا ہے۔ہمارے عزیز سیفی (صاحبزادہ مرزا سفیراحمد صاحب داماد حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ) خود ساری رات بیٹھے رہے اور ریڈیو چلا کر خبریں سنتے رہے لیکن عجیب واقعہ ہوا کہ جو فون ان کے نام آنا تھا وہ غلطی سے میرے نام آگیا اور یہ اطلاع پہلے مجھے ملی بجائے اس کے کہ ان کو ملتی۔اس واقعہ میں کئی اسباق پنہاں ہیں۔ایک یہ کہ یہ تو بہر حال پختہ بات ہے کہ یہ ایک ایسا غیر معمولی واقعہ ہے جو اس علاقہ میں دسیوں سالوں میں بھی کبھی رونما نہیں ہوا اور پھر جمعہ کے دن اور رمضان المبارک کی دس تاریخ کو رونما ہوا ہے۔ان حقائق کو دنیا مٹا نہیں سکتی ،کوئی ان کو غلط نہیں کر سکتا لیکن ایک خطرہ پیدا ہوا اورٹل گیا۔خواہ وہ کتنا ہی غیر معمولی خطرہ تھا لیکن بہر حال ٹل گیا اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یا اس کا کیا نتیجہ ہمیں نکالنا چاہئے۔یہ دیکھنے والی بات ہے۔میرے ذہن میں اس کے کئی نتائج آتے ہیں جن کے بارہ میں میں احباب جماعت کو مطلع کرنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ کہ اگر چہ یہ رویا اس واقعہ پر چسپاں ہوتی نظر آرہی ہے اور یہ ایک غیر معمولی بات ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہوا کرتا کہ ایک ہی دفعہ ایک بات پوری ہو۔خدا تعالیٰ کی طرف سے بعض ایسے کشوف اور الہامات ہوتے ہیں جو بار بار تکرار کے ساتھ پورے ہوتے ہیں۔قرآن کریم کی بعض آیات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ بعض نشان پیچھے پڑ جانے والے ہوتے ہیں اور وہ بار بار پورے ہوتے ہیں۔پس ایک تو یہ امکان بھی ہے۔اس کے علاوہ بھی اگر خدا تعالیٰ چاہے تو زیادہ وضاحت کے ساتھ اس نشان کو پورا فرما سکتا ہے۔