خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 475 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 475

خطبات طاہر جلدم 475 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء کسی انسان پر اتنی مشکل نہیں ڈالی تھی لیکن یہ آخری مقام والوں کے لئے مشکل ہے آغاز کرنے والوں کے لئے یا درمیانی راہوں میں چلنے والوں کے لئے تو کوئی مشکل نہیں ہے۔تو کیسا حسین کلام ہے ایک ہی فقرے میں آسانیاں بھی پیدا کر دیں اور ایسی جن کی کوئی مثال نہیں اور مشکلات بھی ایسی پیدا کر دیں کہ ان کی بھی کوئی مثال نہیں لیکن وہ مشکلات ایسی ہیں جو اپنے ساتھ آسانیوں کو جنم دیتی چلی جاتی ہیں۔فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ( الم نشرح: ۶۔۷) کا قانون بھی جاری ہو جاتا ہے۔ایک عجیب جہان ہے اسلامی عبادات کا جس کے پاسنگ کو بھی دوسرے نسبتاً ادنیٰ حالت کے مذاہب نہیں پہنچ سکتے۔يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ میں ایک اور سبق بھی ہمیں دے دیا گیا اور وہ یہ ہے کہ اگر خدا آسانی چاہتا ہے تو عبادات میں جہاں جہاں بھی کوئی مشکل ہمیں ملتی ہے اس کی دوہی صورتیں ہیں۔یا تو یہ کہ وہ مشکل ہماری ترقی کے لئے ، ہماری بقا کے لئے ضروری تھی جسے نظر انداز کیا نہیں جاسکتا۔مثلا ماں بچے کے لئے آسانی چاہتی ہے اس میں تو کوئی شک نہیں لیکن صبح مار پیٹ کے سکول بھی بھجواتی ہے شدید گرمی ہو یا شدید سردی ہو تب بھی اسے مجبور کر دیتی ہے اپنے آرام کو چھوڑ کر سکول جانے کے لئے اس لئے تو نہیں کہ ماں بچے کے لئے نرمی نہیں چاہتی اس سے زیادہ تو بچہ کا کوئی بھی ہمدرد نہیں ہو سکتا اس لئے کہ مجبور ہے۔وہ جانتی ہے کہ اس کے بغیر اس بچے کی کامیابی ممکن نہیں ہے، یہ زندگی میں ایک کامیاب وجود بن نہیں سکتا۔پس اس فلسفہ کو لوظ رکھتے ہوئے کہ خدا آسانی چاہتا ہے مشکل نہیں چاہتا۔جہاں جہاں بھی عبادات میں مشکلات نظر آئیں گی اس کا ایک طبعی حل یہ سامنے آجائے گا کہ یہ مشکلات ، مشکلات کی خاطر نہیں رکھی گئیں بلکہ انسانی ترقی کے لئے ان کا عبور کرنا ایک لازمہ ہے اس کے بغیر انسان آگے بڑھ نہیں سکتا اس لئے مشکلات رکھنے والے کے لئے طبیعت میں کوئی بغض پیدا نہیں ہو سکتا۔مشکلات ایسے مواقع پر رکھنے والے کے لئے کسی قسم کا دل میں کوئی بوجھ نہیں آتا بلکہ اگر انسان سمجھ لے اس مضمون کو تو وہ جانتا ہے کہ یہ ایک مجبوری ہے جو ہماری بھلائی کی خاطر در پیش ہے اسے راہ سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔دوسری طرف ایک اور مضمون کی طرف بھی دھیان جاتا ہے يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسر کہ جہاں تک ہم کسی چیز کو اپنے لئے مشکل سمجھتے ہیں بعض دفعہ واقعہ وہ