خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 474
خطبات طاہر جلد ۴ 474 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وس اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد جو بارہا آپ سن ۔ آپ سن چکے ہیں لیکن ہر دفعہ وہ ایک نئی لذت اپنے اندر رکھتا ہے کہ اگر تم بیوی کے منہ میں اس خیال سے لقمہ ڈالو کہ میرے مولا کی رضا یہ ہے کہ تم اپنے اہل و عیال کا خیال رکھو۔ تو یہ لقمہ ڈالنا بھی تمہارا عبادت بن جائے گا۔ (۔۔۔۔) جو پیار اور محبت کا مزہ ہے وہ تو الگ نہیں ہوگا وہ تو بہر حال آئے گا۔ لیکن یہ لقمہ بھی عبادت بن جائے گا۔ ازدواجی زندگی کا ہر فعل جو اس فلسفہ کے تابع اختیار کیا جاتا ہے وہ عبادت الہی بن جاتا ہے۔ پس انسانوں میں سے ایک ہی کامل وجود ہے یعنی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن پر کامل دین نازل ہوا۔ ان معنوں میں بھی کامل کہ صلى الله کو ارشاد ہوا انسانی زندگی کے ہر لمحے پر وہ دین حاوی ہو گیا ۔ اسی لئے حضوراکرم ع کو قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : ۱۶۳) کہ تو اس مقام پر فائز ہے کہ تو بنی نوع انسان میں یہ اعلان کر سکتا ہے اور ہم تجھے اجازت دیتے ہیں بلکہ اس بات کا امر کرتے ہیں کہ اعلان کر دے إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِی میری عبادتیں، میری قربانیاں، میری زندگی کا ہر پہلو اور اس زندگی میں جو میں ہر وقت خدا کی خاطر موت قبول کرتا ہوں ۔ مَحْيَايَ وَمَمَاتِي کا صرف یہ مطلب نہیں کہ میرا زندہ رہنا اور بالآخر میر ا مر جانا بلکہ مراد یہ ہے کہ اس زندگی میں وہ تمام کیفیات جو آسانی سے مشابہت رکھتی ہیں اور وہ تمام کیفیات جو مشکلات سے مشابہت رکھتی ہیں، مشکلات کے قریب تر ہیں یعنی موت کے، وہ تمام کیفیات اوران کے دونوں انتہائی کنارے بھی یہ سب کچھ میرے خدا کے لئے وقف ہو چکے ہیں۔ تو عجیب بات ہے اور یہی اسلام کا حسن ہے کہ جہاں آسانی پیدا کر دی اسی سادہ سے فقرے میں مشکلات بھی رکھ دیں اور ایسی تعلیم بھی دے دی جو سب تعلیمات سے زیادہ مشکل بھی ہو جاتی ہے۔ ایک سالک کے لئے آسانی دیکھیں تو کتنی آسانی ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ تمہیں آسانی پہنچائے اور تمہارے لئے عبادات دقتوں کا ذریعہ اور تکالیف کا ذریعہ نہ بنیں ۔ دوسری طرف ساری زندگی پر اس مضمون کو حاوی کر کے نیت کا اطلاق جس انسانی صورت حال پر ہوتا ہے ہر اس چیز کو عبادت بنا کر انسانی زندگی کو خدا کی رضا میں جکڑ دیا ہے۔ اس کا کوئی لمحہ اپنا نہیں رہنے دیا اور یہ اتنا مشکل کام ہے کہ دنیا کے کسی مذہب نے کبھی